اگر آپ بھی ہر مانگنے والے کو بھیک دیتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ضرور پڑھ لیں


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اگر آپ بھی ان مانگنے والوں کو دس بیس روپے کی خیرات دے دیتے ہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کی سنت اور ان کا طرز عمل کیا تھا۔ ان لوگوں کی ہدایت کیلئے آپﷺ نے کیا فرمایا تھا ،حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کہ ایک انصاری صحابی رسول اکرمﷺ کے پاس سوال کرنے کی غر ضسے آئے آپﷺ نے ان سے پوچھا کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں تو وہ بولے کیوں نہیں ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم بچھا لیتے ہیں اور ایک

حصہ اوپر اوڑھ لیتے ہیں ایک پانی کا پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ چنانچہ وہ صحابی گئے اور اپنی دونوں چیزیں لے آئے آپﷺ نے ان دونوں کو ہاتھ میں لیکر فرمایا کہ ان کا کوئی خریدار ہے ایک شخص بولا میں ایک دینار میں خریدتا ہوں آپﷺ نے فرمایا ایک دینار سے زیادہ کون دیتا ہے ۔ اس طرح آپﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا ایک شخص نے کہا ان دونوں چیزوں کو دو درہم میں لینے کیلئے تیار ہوں پس آپﷺ نے وہ دونوں چیزیں اس کے حوالے کردیں اس سے دو درہم لیکر اس انصاری صحابی کو دیدیئے اور فرمایا ایک درہم کی کھانے پینے کی چیزیں لے اور گھر والوں کیلئے لے جا ایک درہم میں ایک کلہاڑی خرید لو اور میرے پاس لے آؤ وہ صحابی کلہاڑی لیکر آپﷺ کے پاس آئے توآپ نے لکڑی کا دستہ اپنے ہاتھمبارک سے ٹھونکا اور فرمایا لکڑیاں کاٹ کر یہاں لاکر بیچو اور پندرہ دن تک مجھے یہاں نہ دکھو۔ پس وہ شخص چلا گیا وہ لکڑیاں کاٹتااور انکو بیچتا کچھ دنوں بعد وہ شخص آیا اس نے دس درہم کمائے تھے ۔ جس میں سے اس نے کچھ کا کپڑاخریدا اور کچھ کا کھانے پینے کا سامان لیاآپﷺ نے فرمایا کہ تیرے حق میں بہتر اس بات سے کہ قیامت کے دن تیرے منہ پر ایک داغ لگا ہو نیز آپﷺ نے فرمایا سوال کرنا درست نہیں مگر تین طرح کے آدمیوں کیلئے ایک وہ جو نہایت مفلس ہو خاک میں لوٹتا ہے دوسرے وہ جو پریشان کن قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہواہو یہ سوا ل کرسکتے ہیں۔رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے واقعہ میں دوپہلو پوشیدہ ہیں ایک تو بظاہر ہم صاف دیکھ رہے ہیں کہ مانگنے والوں کیلئے ایک سبق ہے اگر وہ جوان اور طاقتور ہے تو محنت کرکے کمائے دوسرا پہلو جو ان بھکاریوں کو دیتے ہیں آپﷺ کے فرمان میںسبق پوشیدہ ہے کہ وہ صحابی کبھی بھی رسول اکرمﷺ کی خدمت میں جھوٹ نہ بولتے جس شخص کے گھر میں کل اثاثہ ایک کمبل اور ایک پیالہ ہو کیا اس کے محتاج ہونے میں کچھ شق رہ جاتا ہے ۔لیکن چونکہ وہ معذور نہیں تھا کمانے کے قابل تھا تو آپﷺ نے اسے کچھ دینے کی بجائے محنت کی طرف اس کا خیا ل کروایا ۔



Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *