’’ن لیگ نے پی پی اور پی پی نے مولانا کو چھرا گھونپا ‘‘

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ7 ووٹ مسترد ہونے پر واویلا بے بنیاد ہے، نون لیگ نے پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی نے مولانا کو چھرا گھونپا، سینیٹ الیکشن سے واضح ہوگیا یہ پارٹیاں مل کر نہیں چل سکتیں، اوپن بیلٹ کی بات مان لیتے تو ان کا ہی فائدہ ہوتا، ملک میں استحکام آگیا ،اب کسی لانگ یا شارٹ مارچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،یہ لوگ اسلام آباد آکر دکھائیں ،ان کو ایک گملہ بھی نہیں توڑنے دینگے،اپوزیشن نے ملک کیساتھ جو کچھ کیا اس پر معافی مانگیں اورکفارہ ادا کریں، پیپلز

پارٹی فیڈریشن کی جماعت تھی، اب کمزور ہوکر رورل علاقوں میں چلی گئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ علاقائی جماعتوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت انتخابی ‘ معاشی اور عدلیہ اصلاحات ، عوام کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی ،اپوزیشن اگر اس میں ہمارا ساتھ دینا چاہے تو اس کا خیر مقدم کرینگے، سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ(ن) نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے ، کسی بھی شارٹ یا لانگ مارچ کی کوئی پروا نہیں ، اپوزیشن کو اسلام آباد میں ایک گملا بھی نہیں توڑنے دیں گے ، پی ڈی ایم قصہ پارینہ بن چکی ہے ، اس میں شامل تمام جماعتیں عوام کا خون چوسنے اور ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے پر قوم سے معاف مانگ کر کفارہ ادا کریں ،وزیراعظم نے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے ہمیشہ اوپن ووٹنگ پر زور دیا اور اپوزیشن ووٹوں کی خریدوفروخت کر کے سیکرٹ بیلٹنگ چاہتی تھی ، سینٹ کا انتخاب عام انتخاب سے مختلف ہے یہاں ہاوس چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب رولز کے تحت کرتا ہے ،اگر اپوزیشن اس معاملے پرعدالت یا کسی بھی فورم پر جانا چاہیںتویہ ان کی اپنی مرضی ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ نومنتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی اور پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ علاقے جو ماضی میںنظر انداز کیے گئے ان کے لئے عملی طور پر کچھ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا بھی بہت پیچھے رہ گیا تھا اس کی ترقی کے لئے وزیراعظم نے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کیا ، یہ ایک مشکل کا م تھا ، صدیوں سے چلنے والے نظام کو احسن طریقے سے خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا اور اس علاقے کی ترقی کے لئے 100ارب کا فنڈ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہبلوچستان اور فاٹا کو بطور سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سمجھتی ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام کرتے ہوئے عوام کی خدمت کریں ، اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے جو براہ راست عوام کے لئے ہوتی ہے لیکن پچھلے اڑھائی سالوں میں بدقسمتی سے پنجاب سے مسلم لیگ (ن )اور دیہی سندھ کی علاقائی جماعت پیپلز پارٹی نے قوانین اور اصلاحات کو منظور نہیں ہونے دیا۔اپوزیشن کی سیاست کا مقصد ذاتی فوائد حاصل کرنا ہے یہ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا پسندکرتیہیں جو خاص گروہ کے مفادات کا تحفظ کر سکیں انہی بنیادوں پر پچھلے 30 سے 35 سالوں کی سیاست نے اداروں کو مفلوج ، اور عوام کو انصاف اور خوشحالی سے محروم رکھا۔ اس دوران عوام کے لئےتو کچھ نہیں ہوا لیکن نواز شریف اور ا?صف علی زرداری اور انکے خاندانوں نے لندن ، امریکہ اور بیرون ممالک میں اپنی جائیدادیں اور فیکٹریاں بنائیں ،جب یہ لوگ سیاست میں آئے تو ایک فیکٹری تھی اور اب29فیکٹریاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے عمران خان کے عزم اور بے داغ قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے 2018کے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ سے کامیاب کرایا۔ عمران خاان چاہتے ہیں کہپارلیمنٹ میں آنے والے لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایسا طریقہ کار ہو جس میں یپسے کی سیاست نہ ہو ،قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پرلوگ پارلمینٹ میں آئیں اورعلاقے کے عوام کی آواز بلند کریں۔ اسی انتھک محنت کے بعد آج پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور سینٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40سال سیاست کرنے والے پارٹیاں آج علاقائی پارٹیاں بن چکی ہیں۔اپوزیشن نے کبھی بھی قانون کی بالادستی نہیں چاہیے کیونکہ یہ انکے مفادات کے راستے میں وکاوٹ بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کی محنت کے ثمرات آنا شروع ہو چکے ہیں۔آج ملک میں ریکارڈ ترسیلات آرہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی چیلنج ہے۔ وزیراعظم نے اپنی پوری توجہ اسی پر مرکوز کی ہوئی ہے روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی پر قابو پانے کےاقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن بارے میں اپوزیشن کہتی ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آئی ،ان کو تب سمجھ آنا تھا جب ان کے امیدوار جیت جاتے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لئے بات کی اور عملی اقدامات اٹھائے ، سینٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،ایوان میں بل لائے اورصدارتی آرڈیننس جاری کیا۔ اپوزیشن میثاق جمہوریت میں کہتی آئی ہے کہ ووٹ اوپن ہونے چاہیے لیکن اس موقع پر اوپن ووٹ کی شدید مخالفت کی دراصل اپوزیشن پیسے اور دھونس کی سیاست جاری
رکھنا چاہتی تھی ،اگر وزیراعظم کی بات مان لیتے تو آج انھیں سب سمجھ آجاتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز رضا ربانی ، فاروق نائیک اور دیگر وکلا نے ایوان میں بیٹھ کر الیکشن کا عمل دیکھا ، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر کو درست اور سنجرانی کے نام پر مہر کو غلط کہہ رہے ہیں۔

Leave a Comment