کورونا وبا کی تیسری لہر میں شدت آگئی، مزید ہزاروں کیسز قومی اسمبلی سیکرٹریٹ بھی بند ، ہاتھ ملانے پر پابندی عائد

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں کورونا کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 6 اعشاریہ 5 فیصد رہی اور مزید 2ہزار 664افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق اور مزید 32 افراد اس وباء سے انتقال کر گئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کےمطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 2 ہزار664کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 32 افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، ، اس بیماری سے1 ہزار275مریض شفایاب

ہو گئے۔ملک بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 13 ہزار 508 ہو گئی ہے، جبکہ کْل مریضوں کی تعداد 6 لاکھ5 ہزار 200 ہو چکی ہے۔24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 40 ہزار564ٹیسٹ کیئے گئے، اب تک کْل 94 لاکھ85ہزار 702 کورونا ٹیسٹ کیئے جا چکے ہیں۔ملک بھر میں ہسپتالوں، قرنطینہ سینٹرز اور گھروں میں کورونا وائرس کے کْل21 ہزار121 مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 1 ہزار805مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ 5 لاکھ 70 ہزار 571 مریض اب تک اس بیماری سے شفایاب ہو چکے ہیں۔سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دوسرے صوبوں سے زیادہ 2 لاکھ61ہزار 179 ہو چکی ہے، جبکہ کْل اموات 4 ہزار453ہو گئیں۔پنجاب میںکورونا وائرس کے اب تک 1 لاکھ 85 ہزار468 مریض سامنے آئے ہیں، یہاں کْل ہلاکتیں دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں جو 5 ہزار753ہو گئیں۔خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 75 ہزار725ہو چکی ہے، جبکہ اس سے کْل اموات 2 ہزار 153ہو گئیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 47 ہزار710کورونا وائرس سے متاثرہ مریض اب تک سامنے آئے ہیں، جبکہ اب تک یہاں کْل 524 افراد اس وباء سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔کورونا وائرس کے بلوچستان میں 19 ہزار206 مریض اب تک رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 202 افراد اسمرض سے انتقال کر چکے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے اب تک 10 ہزار952 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے باعث اب تک یہاں کْل 320 مریض وفات پا چکے ہیں۔گِلگت بلتستان میں 4 ہزار 960 کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں ،اس سے اب تک103 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔دوسری جانب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظرقومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو4روز کے لیے بند کردیا گیا اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر16مارچ تک بند رہیں گے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹمیں جراثیم کش اسپرے کرایا جائے گا۔اعلامیہ کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں17مارچ سے کم ازکم عملہ بلایا جائے گا، سیکرٹریٹ کا شعبہ آئی آر اور آراینڈآئی برانچ فعال رہے گا ،عملے کو فون پردستیاب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ کوروناپازیٹوعملہ رپورٹس اسٹیبلشمنٹ برانچ کو بھجوائے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا عملہ دفتر میں ماسک لازمی پہنے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عمل پر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے پر پابندی عائد کردی گئی۔اس حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی ملازمین کوروناایس اوپیزپرسختی سے عمل درآمد کریں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی ٹرانسپورٹ سروس تاحکم ثانی بند کردی گئی۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں دفتری اوقات کارصبح10تا شام4بجے تک ہوں گے۔

موضوعات:

یہ فیصلے ہمارے نہیں ہوتے(پہلا حصہ)

واجد شمس الحسن بنیادی طور پر صحافی تھے‘ عین جوانی میں ایڈیٹر بن گئے‘ والد سید شمس الحسن مسلم لیگی اور قائداعظم کے دست راست تھے‘ یہ لوگ دہلی میں رہتے تھے‘ والد کا پرنٹنگ پریس تھا‘ مسلم لیگ کی تمام دستاویز‘ پوسٹرز اور اشتہارات اسی پریس سے شائع ہوتی تھیں‘ قائداعظم نے ڈان اخبار شروع کیا تو سید شمس ….مزید پڑھئے‎

واجد شمس الحسن بنیادی طور پر صحافی تھے‘ عین جوانی میں ایڈیٹر بن گئے‘ والد سید شمس الحسن مسلم لیگی اور قائداعظم کے دست راست تھے‘ یہ لوگ دہلی میں رہتے تھے‘ والد کا پرنٹنگ پریس تھا‘ مسلم لیگ کی تمام دستاویز‘ پوسٹرز اور اشتہارات اسی پریس سے شائع ہوتی تھیں‘ قائداعظم نے ڈان اخبار شروع کیا تو سید شمس ….مزید پڑھئے‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *