لیگی کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثر

لاہور (این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثر ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثرہوگئی۔معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا لاہور کے میو ہسپتال میں چیک اپ کیا گیا۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سیاہی میں موجود کیمیکل نے شہباز گل کی آنکھ میں انفیکشن کردیا۔ڈاکٹرز نے شہباز گل کی بائیں آنکھ پر ٹریٹمنٹ کے بعد پٹی لگادی۔

دوسری جانب مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کی شہبازگل پر انڈے مارنے اور سیاہی پھینکنے کی مذمت،عظمیٰ بخاری نے کہا مسلم لیگ(ن) ایسی سیاست کے ہرگز حق میں نہیں،ایسی سیاست کی ہم حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔کاش شہباز گل نے تب مذمت کی ہوتی جب مصدق ملک،شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب کے ساتھ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بدتمیزی کی،تیل نہ ڈالا ہوتا۔ پاکستان میں 2013سے پہلے ایسی سیاست کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔نوازشریف حکومت میں تھے ان پر جوتا پھینکا گیا،احسن اقبال کو گولی اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔لیکن افسوس عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اس گندی سیاست کی مذمت نہیں کی۔عظمیٰ بخاری نے شہباز گل کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہاشہباز گل کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کے متعلق بے ہودہ الفاظ کا استعمال کیا اچھی خاندانی تربیت کا مظہر ہے؟۔شہباز گل ایک طرف خود کو خاندانی شخص بتارہے تھے دوسری طرف کسی کی بہن،بیٹی اور بیوی پر کیچڑبھی اچھال رہے تھے۔عزت دار اور خاندانی لوگ دوسروں کی بہو بیٹیو ں کو عزت دیتے ہیں چوک چوراہوں میں کھڑے پر گالیاں نہیں دیتے۔شہباز گل نے میرے والد اور عطا تارڑ دادا کے متعلق بھی انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔شہباز گل آج انتہائی گھبرائے اور پریشان دیکھائی دے رہے تھے۔میرے مرحوم والد صاحب پہ ناجائز تنقیدکرکے شہباز گل کے والد کی پگ اونچی نہیں ہوئی بلکہ نیچی ہوئی ہے۔شہبازگل آج پنجابی فلموں کی ولن لگے ایک سیاستدان اور معاون خصوصی نہیں لگے۔اگر میں موقع پر موجود ہوتی تو شہبازگل کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیتی۔ہم ان کی طرح پیچھے سے نہیں سامنے سے وار کرتے ہیں۔ہمیں ایسی گھٹیا تربیت نہیں دی گئی اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *