صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کا تعین کر دیا ، منظوری بھی دے دی گئی

پشاور(این این آئی)صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی سربراہی میں منعقدہ اجلا س میں ریٹائرمنٹ کی 63سال کی بجائے عمر 60 سال کرنے کی منظوری دیدی جبکہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حد25 سال سروس یا 55سال عمر جو بھی بعد میں پوری ہو،پرریٹائرمنٹ لے سکیں گے۔ صوبائی کابینہ کا ایک اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے
روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین کے  علاوہ چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ انتظامی محکموں کے سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبائی کابینہ کے فیصلوں کے بارے

میں بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزراء کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور شہرام ترکئی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اگلے ڈھائی سالوں کو موجودہ صوبائی حکومت کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پردئیے گئے ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنائیں، صوبے میں موجودہ حکومت کے بہت سارے میگا ترقیاتی منصوبے میچور ہو چکے ہیں اب اُن منصوبوں پر عملی کام کا آغازہونے والا ہے، وزیراعظم عمران خان خود وقتاً فوقتاً صوبے کا دورہ کرکے ان منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے جس کے لئے تمام تر انتظامات اور تیاریوں کو بروقت حتمی شکل دی جائے۔ گڈ گورننس اور شفافیت کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تمام وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں گڈگورننس اورمحکموں کے جملہ امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پندرہ دنوں میں ٹائم لائنز کے ساتھ ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں، محکموں میں بد عنوان عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کی
نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارائیاں عمل میں لائی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو مزید ہدایت کی کہ دفتری امور کی تیز رفتار انجام دہی اور محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، ای سمری سسٹم جلد سے جلد متعارف کیا جائے اور اہم نوعیت کی سمریوں کی منظوری کے عمل کو ایک ہفتے کے اندر یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے محکمہ ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ پٹوار سسٹم میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروانے کے عمل کو تیز کیا جائے اور اس سلسلے میں نظر آنے والے اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ پٹواریوں کو ڈویژن کی سطح پر ایک اضلاع سے دوسرے اضلاع میں تبادلوں کو ہر صورت یقینی بنائیں ۔ تعمیراتی محکموں میں ٹینڈرنگ اور بڈنگ کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے
ان محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کو ای ٹینڈرنگ اور ای بڈنگ کے عمل کو مزید بہتر بنانے اور ان میں موجود خامیوں کو دور کرکے ٹینڈرنگ اور بڈنگ کے سارے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضلع کی سطح پرگڈ گورننس کو یقینی بنانے اور لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے لئے
ڈپٹی کمشنرز اور ضلع پولیس افسران کے اجلاس منعقد کرکے انہیں خصوصی ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ان ذمہ داریوں کو پوری کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور دیگر سرگرمیوں کی رپورٹس طلب کی جائے۔ جنگلات کے تحفظ اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی مؤثر روک تھام کے لئے وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کو نتیجہ خیز اقدامات اٹھانے اور لکڑیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کو
روکنے کے لئے فارسٹ چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتے میں کم سے کم دو دن دفاتر میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور باقاعدگی سے اپنے حلقوں اور اضلاع کے دورے کرکے وہاں پر لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ وزیرعلیٰ نے تمام محکموں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ
ہر محکمہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک ایک میگا پراجیکٹ کی نشاندہی کرے۔ صوبائی کابینہ نے سائنس ٹیکنالوجی انویشن انڈومنٹ فنڈ کے مسودہ قانون کی منظوری دیدی ہے۔ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا مقصد سائئنس و ٹیکنالوجی میں ریسرچ اور ترقی کو فروغ دینا، پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کو سپورٹ دینا، افرادی قوت کے بہترین استعما، سائنس و ٹیکنالوجی میں جدیدیت لانا، اس مقصد کیلئے ابتدائی طور پف مذکورہ فنڈ کیلئے100ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔صوبائی کابینہ نے پشاور ماڈل ٹائون (گندھارسٹی )
کیلئے2لاکھ کینال زمین کے حصول کیلئے مالکان زمین اور حکومت کی شراکت داری کا فارمولا طے کرنے کیلئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ2017میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی ہے۔شراکت داری فارمولے کے تحت مالکان کو 4کینال زمین کی فراہمی پر 1  کینالdevelopedزمین دی جائے گی۔ تاہم  development charges  کی ادائیگی کا طریقہ کاراتھارٹی طے کرے گی۔صوبائی کابینہ نے
گالف کورس کبل سوات کی 142 کینال زمین کی ہائیر ایجوکیشن کو منتقلی کی منظوری دیدی ہے۔ مذکورہ مقام پر سوات یونیورسٹی، خواتین کیمپس قائم کیا جائیگا۔ اس طرح گالف کلب کبل سوات کی 101کینال زمین پر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سوات کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔علاوہ ازیں گالف کلب سوات کی40کینال زمین پر پیڈز ہسپتال قائم کیا جائیگا۔ مزید برآں گالف کلب سوات کی
2کینال اراضی پر ریسکیو1122 کا سٹیشن قائم کیا جائیگا۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرل ایکٹ2017کےschedule-viii میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی ہے۔صوبائی کابینہ نے نئے زونز کے قیام کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جوپبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں میں آبادی اور غربت کے تناظرمیں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کمیٹی کے
سربراہ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑاہوں گے جبکہ شوکت علی یوسفزئی، ریاض خان، تاج محمد اور وزیر زادہ اس کے ممبران ہوں گے۔مذکورہ کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کی منظوری کیلئے تیار کرے گی۔صوبائی کابینہ نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں بھرتیوں میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کیلئے ایٹا کے ذریعے سکریننگ ٹیسٹ کروانے کی منظوری دیدی ہے۔ تاہم اگر ایٹا کیلئے ممکن نہ ہو
تو وہ محکمے کو تحریری وجوہات کے بعد NOCجاری کرے گا تاکہ اچھی شہرت کی حامل پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔صوبائی کابینہ نے فیکلٹی آف ایگریکلچر گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کو باقاعدہ زرعی یونیورسٹی کا درجہ دینے کی منظوری دیدی ہے۔صوبائی کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کی عرصہ 3 سال کیلئے آفیشل و نان آفیشل ممبران کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بورڈ کی مدت میعاد پوری ہو چکی تھی۔صوبائی کابینہ نے
خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے بعض ex-officio ممبران کی میعاد عہدہ ختم ہونے یا استعفیٰ دینے کی بناء پر 4نئے ممبران کی نامزدگی کی منظوری دی ہے جن میں ڈاکٹر شعیب احمد(کو۔فائونڈر سنٹر فار ایڈوانس سٹڈیز ان انجینئرنگ CASE )، یوسف حسین (سینئرپارٹنر جمپ کرو یوکے اسلام آباد)، ڈاکٹر خالد خان (ڈائریکٹر،ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ڈاکٹر لائق حسن
(چیئرمین کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ یو ای ٹی پشاور) شامل ہیں۔یہ عہدے ممبران کی میعاد عہدہ ختم ہونے کی وجہ سے خالی ہوئے تھے۔صوبائی کابینہ نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی مشاورت سے جسٹس روح الامین خان فاضل جج پشاور ہائی کورٹ کو بطور ایڈمنسٹریٹیو جج انسداد دہشت گردی عدالت تقرری کی منظوری دیدی ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔  صوبائی کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کی
سفارشات کی روشنی میں مختلف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی پوسٹنگ کی منظوری دیدی ہے۔انعام اللہ جج انسداد دہشت گردی عدالت ڈی آئی خان کو پشاور ہائی کورٹ، محمد اجمل وزیر جج انسداد دہشت گردی عدالت سوات کو جج انسداد ہشت گردی عدالت ڈی آئی خان اور محمد عامرنذیرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو جج انسداد دہشت گردی عدالت پشاور مقرر کیا گیا ہے۔کابینہ نے کورونا کے بڑھتے ہوئے
کیسز کے پیش نظر پشاور ،نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، ملاکنڈ، کوہاٹ، سوات اور دیر لوئرمیں بھی کل سے  تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا جو 28 مارچ تک بند ہیں گے۔ آئندہ کا لائحہ عمل حالات کو دیکھ کر طے کیا جائیگا۔تاہم سکول کا سٹاف حاضر رہے گا تاکہا والدین بچوں کی تعلیم اور امتحانات کے بارے میں راہنمائی حاصل کر سکیں۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پرائمر سکول ٹیچرز کیلئے
7فروری کو ہونے والے این ٹی ایس ٹیسٹ منسوخ کر دیئے گئے ہیں اور یہ ٹیسٹ این ٹی ایس کے ذریعے زونلز سطح پر الگ الگ دن منعقد ہوں گے تاکہ حکومت مانیٹرنگ کر سکے اور آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ حکومت میرٹ کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے اور میرٹ پر کسی سے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔صوبائی کابینہ نے گندم اور آٹے کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے 9ارب روپے کی خطیر رقم جاری کرنے کی بھی اصولی طور پر منظوری دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *