بجلی صارفین پرمزید 91 ارب سے زائد کا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں

اسلام آباد (این این آئی)بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اپنے نقصانات پورے کرنے کیلئے صارفین پر مزید 91ارب 36کروڑ روپے کا بوجھ منتقل کرنے کیلئے نیپرا کو درخواستیں جمع کرادیں ۔بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے بجلی مہنگی کرنے کی درخواستیں رواں مالی سال کی دو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں کی گئیہیں رواں مالی سال جولائی سے ستمبر تک کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت 44ارب 70کروڑ روہے اور اکتوبر سے دسمبر تک کی دوسری سہ ماہی کی مد میں 46ارب 65کروڑ روپے مانگے گئے ہیں ،نیپرا کو جمع کرائی گئی درخواستوں کے مطابق

یہ رقم خریدی گئی بجلی کی ادائیگیوں آپریشنز اینڈ مینٹیننس اور بجلی کے ترسیلی و تقسیمی نقصانات کی مد میں مانگے گئے ہیں ،نیپرا درخواستوں پر 30مارچ کو سماعت کرے گا، دوسری جانب پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے نجکاری بارے طریقہ کار کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔وزیر نجکاری محمد میاں سومرو کی آر ایل این جی پاور پلانٹس ، ڈسکوز اور اسٹیل ملز کی نجکاری کیلئے اجلاس ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر ، سی ای او این پی پی ایم سی ایل، سی ای او سی پی پی بھی شریک ہوئے ،اجلاس میں حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری بارے مختلف معاملات پر غور کای گیا ،پاور پلانٹس کی مقررہ مدت کے اندر نجکاری ممکن بنانے کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاور پلانٹس کی نجکاری کابینہ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق ہوگی اجلاس میں ڈسکوز کے اجلاس میں معاون خصوصی تابش گوہر بھی شریک ہوئے ۔پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی نجکاری بارے طریقہ کار کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں پیش کرنےکا فیصلہ کرلیا گیا ،نجکاری کا طریقہ کار ڈسکوز کے ورکنگ گروپ نے تجویز کیا ہے ۔ وزیر نجکاری نے کہاکہ ڈسکوز کی نجکاری کا مقصد سروس کے معیار کی بہتری اور نقصانات کو کم کرنا ہے ، نجکاری سے ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوگی ۔ دریں اثناء پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی بارے ہفتہ وار پیش رفت کا جائزہ ہوگیا جس میں وفاقی وزیر نجکاری اور وزیر انڈسٹریز حماد اظہر نے مشترکہ صدارت کی ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان اسٹیل ملز کے درمیان راستے کے استعمال پر بات چیت کی گئی ، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کو ممکن بنانے کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *