مریم نواز کا نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ

لاہور( این این آئی )مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے قومی احتساب بیورو ( نیب) میں پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ بتایا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے مریم نواز کو دو کیسز کی تحقیقات میں طلبی کے نوٹسز بھجوائے گئے ۔مریم نواز نے طلبی کے نوٹسز پر اپنے والد ،پارٹی کے سینئر رہنمائوں اور وکلاء سے مشاورت کی ہے ۔ذرائع کے مطابق نوازشریف نے مریم نواز کو نیب آفس جانے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کیا سینٹ کے انتخابات میں منڈیاں

لگانے والوں سے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ؟،مریم نواز کے کال اپ نوٹس پر وکلا ء مشاورت کر رہے ہیں ،نیب نے مریم نواز کو زبان بندی کے لئے بلایا ہے ، مریم نواز تمام سوالات کے جوابات پہلے ہی دے چکی ہیں ،سال بعد دوبارہ وہی سوالات احتساب کے منہ پر طمانچہ ہے، شہزاد اکبر آج گمشدہ ہے، اسی طرح وزیراعظم اور کرائے کے ترجمان بریف کیس کابینہ سمیت غائب ہو جائیں گے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف، پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف اور میڈیا کو قید کرکے انتخابی، پارلیمانی اور سیاسی اصلاحات کی بات کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے،،مریم نوازشریف جب سلیکٹڈ ٹولے کی چوری، نااہلی اور نالائقی کو بے نقاب کرتی ہیں تو ان کو عمران صاحب کال اپ نوٹس جاری کراتے ہیں جس طرح ڈر کے مارے عمران خان نے شہبازشریف کو ناحق قید کیا ہوا ہے، جو شخص سیاسی مخالفین کو بیٹیوں کے ساتھ جیلوں میں قید کرے، اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، سلیکٹڈ وزیراعظم وہ شخص ہے جو جب منہ کھولے جھوٹ بولے، الزام اور بہتان لگائے، اس سے کوئی بات نہیں ہوسکتی، سلیکٹڈ وزیراعظم وہ شخصہے جو جب منہ کھولے تو بغض، حسد اور عداوت جھلکے، اس سے بات کی جائے؟ ان سے انتخابی اصلاحات کی بات کریں جو ووٹ چوری کی پیداوار اور آرٹی ایس بٹھا کر ملک پر مسلط کئے گئے ہیں؟جس نے پاکستان کے عوام سے جھوٹ، بہتان، تفرقے،گالی اور الزام کے سوا کوئی بات نہیں کی، اس سے بات نہیں ہوسکتی۔ان خیالات کااظہارمریم اورنگزیب نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ آج کہاجارہا ہے کہ انتخابی اصلاحات پر بین الپارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم وہ شخص ہے جو جب منہ کھولے جھوٹ بولے، الزام اور بہتان لگائے، اس سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ سلیکٹڈ وزیراعظم وہ شخص ہے جو جب منہ کھولےتو بغض، حسد اور عداوت جھلکے، اس سے بات کی جائے؟ جس نے پاکستان کے عوام سے جھوٹ، بہتان، تفرقے،گالی اور الزام کے سوا کوئی بات نہیں کی، اس سے بات نہیں ہوسکتی۔ جو جب فیصلہ کرے یا قدم اٹھائے تو وہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہو،اس پر کسی کو کوئی یقین نہیں۔ جو جب فیصلہ کرے اس سے عوام کا آٹا چینی بجلیگیس دوائی چوری ہو، ایسے شخص پر عوام عدم اعتماد کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو ڈسکہ میں الیکشن کمشن کا عملہ اغوا کرتا ہے ، انتخابی اصلاحات کی بات وہ کررہا ہے؟ شرم کریں ۔ جو خود ووٹ چوری اور دھاندلی کی پیداوار ہے،انتخابی اصلاحات کی وہ بات کررہا ہے ؟ ترجمان مسلم لیگ (ن) نے سوال کیا کہ جس نے قائد حزباختلاف اور پارلیمانی لیڈر کو قید کیا ہوا ہے ،انتخابی اصلاحات کی وہ بات کررہا ہے؟ جس نے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں بیٹیوں کے ساتھ قید رکھا ،انتخابی اصلاحات اور سیاسی عدم استحکام کی وہ بات کررہا ہے؟ جو اڑھائی سال سے سیاسی انتقام میں ڈوبے ہوئے ہیں ،پارلیمانی، انتظامی اصلاحات اور سیاسی استحکام کیوہ بات کررہے ہیں؟مریم اورنگزیب نے کہاکہ قائد محمد نوازشریف نے 2013 میں جو وعدے کئے، انہیں پانچ سال میں پورا کیا ۔ 2013 میں 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی جبکہ نواز شریف کی قیادت نے 2018 میں صفر لوڈشیڈنگ تھی۔2018 میں ملکی معیشت 5.8 فیصد پر ترقی کر رہی تھی جبکہ آج مہنگائی کی شرح 14سے 16فیصد ہے۔پورے ملک میں موٹروے کا جال بچھایا۔ دہشت گردی ختم کی۔ 2018 میں اس کا صلہ نوازشریف، شہبازشریف اور ان کے ساتھیوں کو سزائے موت کی چکیوں میں قید کی صورت دیاگیا، ان کی بہوبیٹیوں کو جیلوں میں بند کرکے دیاگیا۔ سیاسی انتقام کی صورت اس کا بدلہ دیاگیا۔ بے گناہ سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں بند کرکےملک سے بدلہ لیاگیا۔ پاکستان کے عوام سے بدلہ لیاگیا۔ آج سپیکر کو خط لکھ کر کہاجارہا ہے کہ انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں سلیکٹڈ، جعلی اور کھلنڈروں کا ٹولہ مسلط کیا گیاجس نے پاکستانی عوام کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے۔ یہ وہی پنجاب اور لاہور ہے کہ جہاں شہبازشریف ترقی کا سفرتیزی سے آگے بڑھا رہے تھے۔ شہبازشریف نے میثاق معیشت کی بات کی تھی۔ جو دوائی نوازشریف اور شہبازشریف کے دور میں مفت ملتی تھی ، آج 500 کی مل رہی ہے۔ 35 روپے کا آٹا 100 روپے مل رہا ہے۔ 52 روپے کلو چینی 120 روپے کی فروخت ہورہی ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 300 فیصد سے زیادہ کا اضافہہوچکا ہے۔ انڈے، مرغی، گھی ہر چیز کی قیمت آسمان سے بات کررہی ہے۔ غریب عوام کے گھر میں فاقہ ہے۔ کاروباری حلقوں کے اندر فاقہ ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے س
وال کیا کہ ان سے بات کریں جنہوں نے تین سال میں قوم سے کئے ہر وعدے کی خلاف ورزی کی ، یوٹرن کو عظیم لیڈر کی نشانی بتایا؟ تین سال ہوگئے،ایک کروڑ نوکری کے بجائے پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ۔ تین سال ہوگئے، جس عوام کو پچاس لاکھ گھر دینے تھے، وہ آج اپنے گھروں کا کرایہ نہیں دے سکتے ۔ جس نے تین سال میں میڈیا کو زنجیریں پہنائیں، آمرانہ پابندیاں لگائیں، وہ میڈیا کی بات کررہا ہے ؟قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کوعمران صاحب نے قید کیا ہو اہے، نیب نے نہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج نیب کو مریم نوازکی یاد آگئی ہے۔ مریم نوازشریف کو نیب کا کال اپ نوٹس نہیں آیا، عمران خان کا کال اپ نوٹس آیا ۔ مریم نوازشریف قید اور حراست کے دوران سب سوالات کے جواب دے چکی ہیں، ایک سال سے کوئی سوال آیا نہ جواب آیا؟ ایک سال بعد نیب کو یہسوالات دوبارہ یاد آئے ہیں؟ یہ احتساب کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بے روزگار جسے سینٹ کی ٹکٹ کا خواب دکھایا ہوا تھا، جوکاغذ لہراکر سیاسی مخالفین پر جھوٹ اور بہتان لگانے کے لئے پی آئی ڈی میں بٹھایا ہوا تھا، عمران خان کا فرنٹ میں اور ٹاوٹ آج گم شدہ ہے۔ براڈ شیٹ کے ٹاوٹ کی طرح کرائے کے ترجمان اور جعلی وزیراعظم اسیطرح گمشدہ ہوجائے گا۔ عوام جاگتی رہی، آنکھیں کھول کر رکھے، ٹاوٹوں کی طرح ایک دن بریف کیس اٹھا کر جعلی وزیراعظم اور اس کی کابینہ بھاگے گی۔ جعلی حکمرانوں نے یہ نہیں سوچا کہ شہبازشریف کے خلاف ڈیفیڈ کا جھوٹا مقدمہ بنائیں گے تو پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوگی۔ یہ نہیں سوچا کہ ملتان میٹرو کا جھوٹا الزاملگائیں گے تو پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب نے شہبازشریف کے خوف میں مبتلا ہوکر شہبازشریف کو گرفتار کرایا ۔کیونکہ وہ سلیکٹڈ جعلی وزیراعظم کو بے نقاب کرتے تھے۔اٹھارہ ماہ حمزہ شہباز کو بے گناہ جیل میں رکھا۔کہاں گئے وہ آشیانہ، گندا نالہ کے کیس؟ اصل بات یہ ہے کہ عمران خانکو شہبازشریف سے ڈر لگتا ہے۔ شہبازشریف باہر ہو تو عمران خان کو رات کو نیند نہیں آتی۔ قائد حزب اختلاف، پارلیمانی لیڈر اور میڈیا کو قید کرکے انتخابی اصلاحات اور پارلیمانی امور کی بات کررہے ہیں۔ انہیں شرم آنی چاہئے۔ اب عمران صاحب مریم نوازشریف کے خوف میں مبتلا ہیں، اس لئے مریم نوازکو گرفتار کرانے کی کوششکررہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ایک نہتی عورت کی زبان بندی اور اسے ہراساں کرنے کے لئے نیب بلایاگیا ہے، مریم نوازشریف نیب کے سوالات کا جواب دے چکی ہیں، اس کا ایک سال تک نیب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، نہ ہی کوئی سوال تھا جس پر ان کی ضمانت ہوئی۔ مریم نوازشریف جب جعلی سلیکٹڈ ٹولے کیچوری، نااہلی اور نالائقی کو بے نقاب کرتی ہیں تواس وقت عمران خان انہیں کال اپ نوٹس جاری کراتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے وکلاکی مشاورت جاری ہے ۔ ایک اور سوال پر مریم اورنگزیب نے کہاکہ مریم نوازشریف جب نیب پیش ہونے گئیں ، گیٹ پر کھڑی تھیں تو نیب دروازہ نہیں کھول رہا تھا۔ مریم نوازشریف نے اس وقت کہا تھا کہمیں جواب دے کر جاوں گی توان پر پتھراو ہوا اور ان کی گاڑی توڑی گئی۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہاکہ عمران خان کا اصل خوف یہ ہے کہ ایک کروڑنوکری نہیں دے سکتے، پچاس لاکھ گھر نہیں دے سکتے، اس لئے سیاسی مخالفین کو جیل میں بند کرو، جھوٹے مقدمات بناو، ان پر الزامات لگاو۔ حکمرانوں کا اصل خوف یہ ہے کہ ان کیفارن فنڈنگ کی چوری پکڑی گئی ہے۔ عمران خان چھ سال سے اس میں مفرور ہیں۔ حکمرانوں کو خوف ہے عوام کاآٹا چینی بجلی گیس دوائی چوری کرنے کا۔اب وہ عوام میں نکلنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہوں نے انتشار کے جو بیج عوام میں بوئے تھے، اب اس کی فصل انہیں کاٹنا پڑ رہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمارے وکلانیبکال اپ نوٹس کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ اس میں جتنے سوالات ہیں، ان میں سے ایک سوال بھی ایسا نہیں ہے جس کا جواب مریم نوازشریف نے جواب نہ دیا ہو۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ اس کال اپ کا مقصد کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم متحد ہے۔استعفوں پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے البتہ اس کی تاریخ کے حوالے سے اپنی اپنی رائے ہے۔ اس پر بھی پی ڈی ایم کی قیادت مشاورت سے راہ نکالے گی۔

موضوعات:

پی ڈی ایم (مرحوم)

کیپٹن شاہین پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ہیں‘ یہ لاہوریے ہیں‘ جوانی میں امریکا گئے‘ بزنس کیا اور خوش حال ہو گئے‘ شریف فیملی سے ان کے پرانے تعلقات ہیں‘ میاں نواز شریف نے انہیں 2018ءمیں سینیٹ کا ٹکٹ دیا اور یہ پاکستان کے ایوان بالا کے رکن بن گئے‘ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے پہلے یہ ….مزید پڑھئے‎

کیپٹن شاہین پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ہیں‘ یہ لاہوریے ہیں‘ جوانی میں امریکا گئے‘ بزنس کیا اور خوش حال ہو گئے‘ شریف فیملی سے ان کے پرانے تعلقات ہیں‘ میاں نواز شریف نے انہیں 2018ءمیں سینیٹ کا ٹکٹ دیا اور یہ پاکستان کے ایوان بالا کے رکن
بن گئے‘ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے پہلے یہ ….مزید پڑھئے‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *