ملک بھر میں وسیع پیمان پر لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ، 8 بجے تمام تجارتی سرگرمیاں بند، ایمرجنسی کے علاوہ نقل و حمل کی اجازت نہیں ہو گی، این سی او سی کے اجلاس میں اہم فیصلے

اسلام آباد(آن لائن)نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں کورونا وائر س کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وباء سے شدید متاثرہ علاقوں میں ایس اوپیز پر سختی سے عملدر آمد کرانے پر اتفاق کیا ہے۔ملک بھر میں ایمرجنسی کے سوانقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی، ہائی رسک شہروںمیں رات 8 بجے تک سوائے ضروری سروسز کے تمام کمرشل سرگرمیاں بند کر دی جائیں گی، انڈور شادی و دیگر تقریبات ،کھیلو ں سمیت دیگر ایونٹس پر پابند ی ہوگی،ماسک پہننا لازمی ہوگا، سخت کرونا ایس او پیز کے ساتھ 300

افراد تک آؤٹ ڈور اجتماعات کی اجازت ہو گی،دوروز کیلئے کاروبار مکمل بندرہیں گے،سخت اقدامات کی پالیسی کا نفاذ11اپریل 2021تک ہوگا،تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلہ کل بدھ کو اجلاس میں کیا جائے گا۔ این سی او سی کا اجلاس سوموار کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے موجود صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور متفقہ طور پر وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایسے تمام شہروں اور اضلاع میں بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا گیا جہاں تین روز تک مثبت کیسز کی اوسط 8 فیصد سے زائد ہے۔ شہروں میں 8 فیصد سے کم مثبت کیسز والے مقاؐمات پر پہلے سے نافذ کردہ ایس او پیز کو وباء کے خطرے کا جائزہ لیتے ہوئے جاری رکھا جائے گا۔وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کا نفاذ خطرے کو جانچنے کی بنیاد پر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانےکے ساتھ کیا جائے گا۔ ایمرجنسی کی صورت حال کے بغیر نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی اس کے علاوہ ہر قسم کی انڈور ڈائننگکے پروگراموں کو بند کیا جائے گا تاہم رات 10 بجے تک آوٹ ڈور کھانا دینے کی اجازت ہو گی۔پارسل لے جانے کی اجازت ہو گی۔ رات 8 بجے تک سوائے ضروری سروسز کے تمام کمرشل سرگرمیاں بندکر دی جائیں گی۔ ہر ہفتے میں دو روز تمام کاروبار بند رہیں گے۔اس حوالے سے دنوں کا انتخاب وفاقی اور متعلقہ ادار وں کی ہدایات کی روشنی میں کیا جائے گا۔سخت کرونا ایس او پیز کے ساتھ 300 افراد تک اجتماعات کی اجازت ہو گی تاہم تمام انڈور اجتماعات بشمول ثقافتی، میوزیکل و مذہبی اجتماعات پر پابندی ہو گی۔ تمام سینما گھراور مزارات مکمل طور پر بند رہیں گے۔ کھیلوں، تہوار، ثقافتی و دیگر ایونٹس پر مکمل پابندی ہو گی۔رات 10 بجے تک شادی کی آؤٹ ڈور تقریبات کی اجازت ہو گی جس میں 300 تک مہمانوں کو مدعو کرنے کی اجازت ہو گی اور صرف 2 گھنٹے کے ایونٹ کی اجازت ہو گی جس میں کرونا ایس او پیز کے ساتھ سختی سے عملدرآمد کرانا ہو گا۔تفریح پارک بند رہیں گے تاہم واکنگ ٹریکس پر کرونا ایس او پیز کے ساتھ کھلیں رہیں گے تمام سرکاری، نجی دفاتر اور عدالتوں سمیت کام والے مقامات میں 50 فیصد کام گھر سے کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔ریلوں میں 70 فیصد مسافروں کو بٹھایا جا سکتا ہے تمام مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ عدالتوں(سٹی، ڈسٹرکٹ، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ) میں حاضری کو کم کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر و دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحت کے لئے سخت قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے۔ تمام داخلی مقامات پر جسمانی درجہ حرارت کو چیک اور سینی ٹائزر رکھیں جائیں گے اور مخصوص مقامات متعین کئے جائیں گے۔ایساو پیز کی خلاف ورزی پر سزا کے اقدامات کو میڈیا میں نمایاں کوریج دی جائے۔ ان اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور یہ 11 اپریل 2021 ء تک لاگو رہیں گے۔ 7 اپریل کو این سی او سی کا جائزہ اجلاس منعقد ہو گا۔ تعلیمی شعبے سے متعلق 10 مارچ 2021 کو کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس 24 مارچ ( بروز بدھ) منعقد ہو گا۔

موضوعات:

سینیٹ الیکشن میں کیا کیا ہوا؟

آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست نے انہیں فروری میں بتایا‘ حفیظ شیخ کو سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ مدد نہیں ملے گی‘ یہ الیکشن مکمل آزاد اور شفاف ہو گا‘ یہ ایک دھماکا خیز اطلاع تھی‘ زرداری صاحب نے تصدیق کرائی‘ یہ اطلاع درست نکلی‘ زرداری صاحب ایک جہاں دیدہ اور سمجھ دار انسان ہیں‘ انہوں نے موقعے ….مزید پڑھئے‎

آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست نے انہیں فروری میں بتایا‘ حفیظ شیخ کو سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ مدد نہیں ملے گی‘ یہ الیکشن مکمل آ
زاد اور شفاف ہو گا‘ یہ ایک دھماکا خیز اطلاع تھی‘ زرداری صاحب نے تصدیق کرائی‘ یہ اطلاع درست نکلی‘ زرداری صاحب ایک جہاں دیدہ اور سمجھ دار انسان ہیں‘ انہوں نے موقعے ….مزید پڑھئے‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *