ائیرپورٹ پر ہراسگی کا نشانہ بننے والی لڑکی منظر عام پر آ گئی

کراچی(این این آئی) گزشتہ روز ایف آئی اے افسر کی جانب سے لڑکی کو ہراساں کرنے کے معاملے پر بحرین کی رہائشی لڑکی نے اعلی حکام کو خط ارسال کردیاجبکہ بحرین سے کراچی آنے والی نادیہ کا ویڈیو بیان بھی منظر عام پر آگیاہے۔کراچی ائیر پورٹ پہنچنے پر امیگریشن نے لڑکی کا پاسپورٹ اور دیگر ڈاکومنٹس اپنے پاس رکھ لیے۔ متاثرہ لڑکی نےویڈیو بیان میں بتایاکہ سب انسپکٹر سنجے مجھ سے میرا لوکل نمبر مانگا تو میں نے اپنے والد کا نمبر لکھ دیا۔ سنجے نے کہا کہ میں بحرین ملنے آئوں تو کیسے رابطہ ہوگا۔ یہاں جو آتا ہے

ہمیں مٹھائی دیتا ہے آپ کیا دیں گی۔ خط میں سنجے کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی تمام تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔اس سے قبل  جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ایف آئی اے افسر کی جانب سے لڑکی کو مبینہ ہراساں کیے جانے کے واقعے پر ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کی جانب سے نوٹس لے لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایف آئی اے افسر سنجے نے لڑکی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ امیگریشن پر بحرین سے آئی پندرہ سالہ لڑکی کو ہراساں کیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق لڑکی سے اس کا ذاتی موبائل نمبر اور پیسے بھی مانگے گئے جبکہ ایف آئی اے کے سب انسپکٹر سنجے نے موقف دیا کہ لڑکی سے نمبر سسٹم میں انٹری کیلیے مانگا تھا، مٹھائی کے پیسے مذاق میں مانگے تھے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن زین شیخ نے واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے سب انسپکٹر کو معطل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے بلیک لسٹ بھی کردیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر عامر فاروقی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے امیگریشن افسر کو معطل کر کے زون رپورٹ کر دیا گیاہے،ایف آئی اے افسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیاہے ۔ ایئر پورٹ حکام کے مطابق لڑکی کو مبینہ ہراساں کرنے کا واقعہ گزشتہ شام کے وقت پیش آیا، بحرین سے آنے والی ایک لڑکی کو ایف آئی اے افسر نے مبینہ طور پر ہراساں کیا۔لڑکی نے بتایاکہ ایف آئی اے افسر نےنمبر مانگا اور مٹھائی طلب کی۔مبینہ ہراساں کرنے والے افسر کی لوگوں کی جانب سے ویڈیو بنالی گئی ہے جبکہ ویڈیو میں لوگوں کے سوالات پر ایف آئی اے افسر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایف آئی اے افسر کہہ رہا ہے کہ لڑکی سے نمبر لسٹ میں لکھنے کے لیے مانگا تھا اور مٹھائی مذاق میں مانگی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *