واٹس ایپ JIT اور واٹس ایپ گورننس کے بعد واٹس ایپ شوگر مافیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) واٹس ایپ والی جے آئی ٹی اور حال ہی میں سامنے آنے والے پنجاب میں واٹس ایپ گورننس کے کیس کے بعد اب واٹس ایپ شوگر مافیا کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کا بھانڈا ایف آئی اے نے پھوڑا ہے۔روزنا جنگ میں انصار عباسی کی خبر کے مطابق واٹس ایپ شوگر مافیا فراڈ کرتے ہوئے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے میں ملوث بتائی گئی ہے۔ اس اسکینڈل کیتفصیلات سے آگاہ ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا ہے کہ واٹس ایپ پر کل 16؍ سٹہ گروپس ہیں جو 2020ء کی شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد

فعال ہوگئے تھے۔ ایف آئی اے کی جانب سے بے نقاب کی جانے والی مافیا کے درمیان واٹس ایپ رابطہ کاری ار 100؍ لیجرز (کچہ کھاتا) پر کی جانے والی تحقیق سے واضح ہو جاتا ہے کہ پنجاب میں کم از کم 30؍ سٹہ کھلاڑی ہیں جو فراڈ کرتے ہوئے سٹے کے ذریعے چینی کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں اور مبینہ طور پر وہ یہ کام شوگر ملوں کے ذریعے کر رہے ہیں؛ ان میں جہانگیر ترین کی جے ڈبلیو ڈی، خسرو بختیار فیملی کی آر وائی کے، شریف فیملی کی رمضان شوگر ملز، المعیز وغیرہ شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو 16؍ واٹس ایپ سٹہ گروپس شوگر کمیشن 2020ء کے بعد اب جا کر بے نقاب ہوئے ہیں ان کا سراغ 34؍ سمارٹ فونز، 6؍ لیپ ٹاپز، دو سینٹرل پراسیسنگ یونٹس (سی پی یو) ، ایک ہارڈ ڈسک اور ایک ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) کے جائزے کے بعد لگایا گیا ہے۔ یہ تمام آلات حال ہی میں ضبط کیے گئے تھے۔ ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں یہ پتہ لگایا ہے کہ یہ واٹس گروپس مستقلتبدیل ہوتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جن 16؍ واٹس ایپ گروپس کا سراغ لگایا گیا ہے ان میں سیکڑوں نمبر (ارکان) موجود ہیں۔ ان واٹس ایپ گروپس میں شوگر ڈیلرز واٹس ایپ گروپ، پاک شوگر انفو واٹس ایپ گروپ، تھری اسٹار شوگر ٹریڈرز واٹس ایپ گروپ، شوگر بزنس واٹس ایپ گروپ، شوگر پاکستانواٹس ایپ گروپ، شوگر ٹریڈرز واٹس ایپ گروپ، آل پاکستان شوگر واٹس ایپ گروپ، شوگر ڈیلرز پاکستان واٹس ایپ گروپ، شوگر ٹریڈ ایکسچینج واٹس ایپ گروپ، پاکستان شوگر گروپ واٹس ایپ گروپ، شوگر مرچنٹس واٹس ایپ گروپ، شوگر واٹس ایپ گروپ، آزاد ریڈی شوگر واٹس ایپ گروپ،شوگر مرچنٹس گولڈ واٹس ایپ گروپ، اور لائیو شوگر گروپس پاکستان واٹس ایپ گروپ شامل ہیں۔ ایف آئی اے نے کراچی سے تعلق رکھنے والے بھی 5؍ بڑے سٹہ گروپس کا سراغ لگایا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ (اندازاً) ایکس مل پرائس، جو شوگر کمیشن کی تحقیقات سے قبل 70؍ روپے فی کلوگرام تھی،اسے اسی مافیا نے بڑھا کر 90؍ روپے فی کلوگرام کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ واٹس ایپ گروپس پر شوگر مافیا کے درمیان ہونے والے پیغامات کے تبادلے اور صوتی پیغامات (وائس میسیجز) سے بھی واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ اگر اسے اب سختی سے نہ روکا گیا تو یہ لوگ رمضان المبارک میں شدید ضرورت کےموقع پر چینی کی قیمتوں میں مزید 20؍ روپے فی کلوگرام کا اضافہ کرکے اس کی قیمت 110؍ روپے فی کلوگرام تک پہنچا دیں گے جس کیلئے قلت کی افواہ پھیلائی جائے گی اور 110؍ ارب روپے غیر قانونی انداز سے بٹو ر لیے جائیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سٹے سے حاصل ہونے والی رقم اور منافعلاتعداد جعلی اور غیر متعلقہ تھرڈ پارٹی بینک اکائونٹس میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ایف آئی اے نے ان اکائونٹس کا سراغ انہی واٹس ایپ گروپس کا جائزہ لینے اور ڈپازٹ سلپس دیکھنے کے بعد لگایا ہے جو ان گروپس کی چیٹس میں شیئر کی جاتی تھیں۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ ایک نئی صورتحال ہے جس کاانکشاف ہوا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال ملوں کی جانب سے جاری کردہ فارورڈ ڈیلیوری آرڈرز کی سودے بازی انہی واٹس ایپ گروپ پر ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرشنگ پروڈکشن سائیکل میں لفٹنگ کی 15؍ روزہ پابندی عائد کی گئی ہے، اس کے بعد سے ایجنٹس بغیر کسی ڈیلیوریکے ملز کے اسٹاک کی سودے بازی سادہ پیغام یا پھر وائس میسیج کے ذریعے کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مل والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی فروخت نہیں ہوئی اور ایسے ہی رکھی ہے۔ بدھ کو میڈیا میں جو خبر سامنے آئی تھی اس کے مطابق، ایف آئی اے نے پتہ لگایا ہے کہ شوگر مافیا نے پچھلے ایک سال کےدوران اندازوں پر مبنی قیمتوں (Speculative Pricing) کے ذریعے 110؍ ارب روپے بٹور لیے ہیں۔ شوگر مافیا کیخلاف 7؍ مقدمات (ایف آئی آرز) درج کی گئی ہیں۔ ان ایف آئی آرز کے مطابق، شوگر مل مالکان، شوگر بروکرز اور ان کے سٹہ ایجنٹس (اندازوں پر مبنی قیمتیں لگانے والے کھلاڑی)شوگر ملوں کے ساتھ بھرپور ملی بھگت کے ساتھ ایک خفیہ شوگر سٹہ مافیا بن چکے ہیں اور مکمل رازداری سے کام کر رہے ہیں خصوصاً یہ لوگ برقی ذرائع (واٹس ایپ گروپ) کا استعمال کرتے ہیں، فراڈ کرتے ہیں اور ہیرا پھیری کرکے چینی کی قیمتیں مصنوعی انداز سے بڑھاتے ہیں اور افواہ یہ پھیلاتے ہیں کہ چینی کے ذخائر کم ہوگئے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *