پٹرولیم بحران پر ندیم بابر کو ہٹانا کافی نہیں وزیر اعظم اور کابینہ ارکان کو مستعفی ہونا چاہیے، بڑا مطالبہ کر دیا گیا

کراچی(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیاسٹیٹ بینک سے متعلق حکومتی آرڈیننس کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، حکومت کو یہ آرڈیننس فوری طور پر واپس لینا چاہیے، ہم نے پی ٹی آئی ایم ایف کا پہلے بھی مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریںگے، پٹرولیم بحران پر ندیم بابر کو ہٹانا کافی نہیں وزیر اعظم کابینہ ارکان کو مستعفی ہونا چاہیے، بلاول نے کہا مسلم لیگ( ن )کے دوستوں سے درخواست ہے وہ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پی لیں اور لمبی لمبی سانسیں لیں، مسلم

لیگ ن سے بالکل توقع نہیں تھی سینیٹ میں امیدوارکی ہار کے بعد خان صاحب جیسا ردعمل دیں گے، سیلیکٹڈ کالفظ میں نے دیاہے تومیں جانتاہوں وہ کس پراستعمال ہونا بنتا ہے کس پرنہیں۔جانبدار انہ فیصلے سے یوسف رضا گیلانی سے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ چھینا گیا ، ہائیکورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کرینگے، عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے تو کامیابی ہماری ہو گی ،کورونا کے باعث ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی کا بڑا اجتماع نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ہمارا چیئرمین سینیٹ پر جواعتراضات ہیں اس کے حوالے جدوجہدجاری ہے اور ہم اپیل میں جائیں گے اورآئین کے مطابق کام کریں گے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کا تحفظ اور کردار کوئی اور ادارہ ادا نہیں کرسکتا ،پارلیمان کا معاملہ کسی کورٹ میں چیلنج نہیں ہونا چاہیے تاہم پیپلزپارٹی کا جو موقف ہے کہ وہ یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں پریزائیڈنگافسر نے ناجائز اور غلط فیصلہ دے کر یوسف رضا گیلانی کو شکست سے دو چار کیا اور ان کے ووٹ غلط طریقے سے مسترد کیے ،جب بھی عدالت ہمارا کیس میرٹ پر سنے گی تو کامیابی ہماری ہو گی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی کامیاب ہوگی۔انہو ں نے کہا کہ حکومت میں وہ اہلیت نہیں کہ آئی ایم ایف کے سامنے صحیح فیصلےکرے،تاریخی ناکامی ہے کہ شرح نمو جنگ زدہ افغانستان اور بنگلا دیش سے بھی کم ہے،صرف ندیم بابر نہیں وزیراعظم سمیت کابینہ میں جس جس نے فیصلے کیے سب کو ہٹانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے ، پنجاب میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لئے گڑھی خدا بخش میں جلسہ نہیںہوگا،4اپریل کو صرف قران خوانی ہوگی،ذوالفقار علی بھٹو کی برسی بڑے اجتماع کی صورت میں نہیں منائیں گے،شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی ایس او پیز کے ساتھ ضلعی سطح پر منائیں گے،ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے ایک مشکل لڑائی کے بعد اسلام آباد سے سینٹ کی نشست جیتی ہے، ایسی تاریخی کامیابی پاکستان کیتاریخ میں پہلے کبھی کسی کو نہیں ملی،جب سے یہ کھٹپتلی حکومت آئی ہے اس کو اپوزیشن کے ہاتھوں ایسی شکست نہیں ہوئی ،چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے کسی کو یقین دہانی نہیں کرائی تھی کہ اپوزیشن لیڈر کا امیدوار پیپلزپارٹی سے نہیں ہوگا۔سینیٹ میں اپوزیشن کی جو اکثریتی جماعت ہوتی ہے اپوزیشن لیڈر بھی اسیجماعت سے ہوتا ہے اسی لئے ہمارا حق تھا کہ ہم چیئرمین سینیٹ کا الیکشن بھی لڑیں اور اپوزیشن لیڈر بھی نامزد کریںاس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ہماری خواہش تھی کہ سینیٹ میں بھی پی ڈی ایم کو یہ عہدہ جتواتے۔مسلم لیگ ن کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ایک جماعت نے سخت موقف لیا جس سے ہمارے رہنماؤں کو محسوس ہوا کہپیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جارہا ہے مسلم لیگ ن کے امیدوار اعظم تارڑ متنازعہ اور ان پر ہمارے تحفظات تھے اپنے ارکان کو کیسے کہتے کہ وہ یوسف رضا گیلانی کے بجائے اعظم تارڑ کوووٹ دیں۔ہمارے پاس پیپلزپارٹی کے 21 ، اے این پی کے 2 ،جماعت اسلامی کے 1 اور فاٹا کے دو ارکان تھے۔اس لئے ہمارے 26 ووٹ تھے۔دلاور خان گروپ نے ہمیں خود ووٹ دیا ان کے بارے میں ہمیں علم نہیں تھادوسری جماعتوں کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔پنجاب میں بھی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئے ہم نے تو اس پر اعتراض نہیں کیا تھایوسف رضا گیلانی کا اپوزیشن لیڈر بننا جمہوریت پسندوں کی کامیابی ہے ہم ن لیگ کیساتھ بھی مل کر کام کریں گے۔ہمارا مقصدحکومت کو نقصان پہنچانا ہے اور یہ ہم مل کر ہی کرسکتے ہیںہم چاہتے ہیں پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار رہے ہم اس اتحاد کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔انہو ںنے مزید کہا کہ مریم نواز اور لیگی رہنماؤں کے بیانات تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ہمیں پتا ہے کہ سلیکٹڈ لفظ کا استعمال کہاں ہونا چاہیے اور کس کے لئے ہونا چاہیے کیونکہ سلیکٹڈ کا لفظ ایجادہی میں نے کیا ہے۔میڈیا والے ہم دونوں جماعتوں کی لڑائی کیوں چاہتے ہیں ۔ ۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی ،اس حوالے سے پانچ اپریل کو پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہو گا جس میں حکومت کیخلاف جدوجہد کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے اور ہم حکومت کو للکارتے رہیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا ک
ہ ( ن ) لیگی رہنمائوں کا احترام کرتا ہو ں مریم نواز کی عزت کر تاہو ں میں ان کے کسی بھی بیان پر ردعمل نہیں دوں گا میں جانتا ہو ں کہ مریم نواز سمیت دیگر لوگ پیپلزپارٹی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ (ن ) لیگ والے ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پیئے اور لمبی لمبیسانسیں لیں لیگی قیادت غور کرئے کہ اصل میں ان کا اتحادی کو ن ہے ، (ن ) لیگ دیکھے انہیں پیپلزپارٹی سے جھگڑے کے کون مشورے دے رہا ہے الزامات لگانے سے تعلقات مزید آگے نہیں بڑھ سکتے ۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں حکومتی بینچوں سے آنیوالوں کو ویلکم کریں گے۔ سینیٹ میں قائد حزباختلاف بنانا ہماری جماعت کا حق تھا، بعض رہنماوَں نے محسوس کیاکہ پیپلزپارٹی دیوار سے لگایاجارہاہے۔ سینیٹ کی تاریخ ہے جس کی اپوزیشن میں اکثریت ہوتی ہے۔ مسلم لیگ ن سے بالکل توقع نہیں تھی کہ سینیٹ میں امیدوارکی ہار کے بعد خان صاحب جیسا ردعمل دے۔ مریم نواز پر تنقید کی نہ کروں گا، ان کو ن لیگ میں اہم سپیسملنا پنجاب کی قیادت کیلئے بھی اچھا ہے۔ پارلیمان میں شکست دلوانے والی بات جو نہیں مان رہے تھے چاہیے تھا وہ پارلیمان میں حکومتی امیدوارکوشکست دلوانے کے بعد اس پر زیادہ غورکرتے۔ میں سمجھتاہوں اپوزیشن کاکوئی نقصان نہیں ہوا۔ الزامات کاجواب دیناپسندنہیں کروں گا،پی ڈی ایم کونقصان نہیں پہنچاناچاہتاپی ڈی ایم کی میں نے بنیادرکھی،چاہوں گاپی ڈی ایم اتحادبرقراررہے۔

موضوعات:

ہمیں رک کر سوچنا ہو گا

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ یہ 2013ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مواصلات کے وفاقی وزیر رہے اور 2018ءمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے۔حافظ عبدالکریم نے 11مارچ کو ….مزید پڑھئے‎

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ یہ 2013ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مواصلات کے وفاقی وزیر رہے اور 2018ءمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے۔حافظ عبدالکریم نے 11مارچ کو ….مزید پڑھئے‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *