’’احسن اقبال آر ڈیننس جاری کر نے پر حکومت پر برس پڑے ‘‘

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی نے اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر نے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پارلیمانی سال کے دن پورے کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے جس کا مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے بتایا ہے کہ آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ حکومت و اپوزیشن کی کتنی حاضری ہونی چاہیے ، پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال آر ڈیننس جاریکر نے پر وفاقی حکومت پر برس پڑے جواب میں وفاقی وزیر حماد اظہر ، علی محمدخان ، شیریں مزاری، بابر اعوان آئین کے

حوالے دیتے رہے ، احسن اقبال بھی ڈٹے رہے اور کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 73 کے مطابق مالیاتی بل صرف قومی اسمبلی میں لایا جا سکتا ہے،کوئی نیا ٹیکس لگانے یا چھوٹ دینے کیلئے بل مالیاتی بل کہلاتا ہے، نہیں چاہتے کہ آپ رولنگ عدالت میں چیلنج کریں جبکہ آرڈیننس کا معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کی احسن اقبال کی بات کی راجہ پرویز اشرف نے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کسی صورت اپنی داڑھی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے،ہمیں اپنے معاملات اس پارلیمنٹ میں حل کرنے چاہئیں۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلا س ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اس دور ان پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سابق وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف نے کہاکہ اجلاس ایک گھنٹہ تاخیرسے شروع ہوا ۔انہوںنے کہاکہ کورونا صورتحال میں اچانک اجلاس بلا لیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس کا کوئی خاص ایجنڈا بھی نہیں ہے،بتایا گیا ہے کہ پارلیمانی سال کے دن پورے کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے،حکومت کا نہ کورم پورا ہے اور نہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،پارلیمان آنے والے راستے کو ڈی چوک سے کیوں بند کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے ایک سال میں کورونا سے متعلق مناسب اقدام کیوں نہیں کیے۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کی صورتحال خطرناک ہے،اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے ملک میں مہنگائی کو بڑا ایشو قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ آئین ہم نے بنایا ہے اور اس کی تشریح بھی ہم کریں گے، اگر منی بل لانے کی اجازت دیں گے تو بجٹ میں 40 دن بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے؟انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے، اسپیکر صاحب اس پر رولنگ نہ دیں تو اسد قیصر نے کہا کہ یقین رکھیں میں قانون کے مطابق چلوں گا۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ اسپیکراسد قیصر نے کہاکہ آپ نے تاخیر سے اجلاس شروع ہونے کی نشاندہی بالکل ٹھیک کی ہے۔پارلیمانی مشیر بابر اعوان نے کہاکہ ہم بیٹھ جاتے ہیں اور ضابطے طے کرلیتے ہیں اجلاس کیسے چلانا ہے،کسی وجہ سے کورونا پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس نہ بلایا جاسکا،آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ حکومت و اپوزیشن کی کتنی حاضری ہونی چاہیے۔اجلاس کے دور ان سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہ اکہ آئین کے آرٹیکل 73 کے مطابق مالیاتی بل صرف قومی اسمبلی میں لایا جا سکتا ہے،کوئی نیا ٹیکسلگانے یا چھوٹ دینے کیلئے بل مالیاتی بل کہلاتا ہے،سات سو ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس اقدامات آرڈیننس کے ذریعے لیے گئے ہیں،آئین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے احسن اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکس اقدامات پر وہ تنقید کررہے ہیں جو ایس آر او کے ذریعے ٹیکس تبدیل کرتی تھی،ہم نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت ان کی تشریح کہاں تھی جب ایس آر او کے ذریعے ٹیکس تبدیل ہوتے تھے،بیس ارب ڈالر انہوں نے روپیہ کو مستحکم رکھنے کیلئےجھونک دیئے۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاکہ ہم قانون اور آئین کے تحت کام کر رہے ہیں ایس آر او کے تحت نہیں،ہماری حکومت اداروں کے سربراہوں کے ہاتھ نہیں باندھتی۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے آرڈیننس جاری کرنے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہاکہ آئین کے تحت صدر کو اس وقت آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار ہے جب ایوان بالا یا زیریں کا اجلاس نہ ہو،آرڈیننس بالکل جائز اور آئین کے تحت جاری کیا جاسکتا ہے۔احسن اقبال نے کہاکہ ہماری حکومت نے ایس آر او کلچر پر پابندی لگائی تھی،آئین میں واضح ہے کہ جس چیز کا تعلق فنانس سے ہو وہ صرف ایوان کی منظوری سے ہوسکتا،جس چیز کا تعلق فنانس سے ہے اس پر آرڈیننس نہیں آسکتا،آرڈیننس واپس لینے کی رولنگ دی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ رولنگ عدالت میں چیلنج کریں۔ انہوںنے کہاکہ میں کوئی آپ کے سامنے الف لیلیٰ کی کتاب نہیں پڑھ رہا۔ انہوںنے کہاکہ بابر اعوان آئین کے جس آرٹیکل کا حوالہ دے رہے ہیں وہ عام حالات کے بارے میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ مالیاتی معاملات میں اس طرح نہیں ہوسکتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نےرولنگ دی کہ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ آرڈیننس کے ذریعہ منی بل لاسکتی ہے۔ اجلاس کے دور ان آرڈیننس کا معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کی احسن اقبال کی بات کی راجہ پرویز اشرف نے مخالفت کی ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ہمیں کسی صورت اپنی داڑھی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے،ہمیں اپنے معاملات اس پارلیمنٹ میں حل کرنے چاہئیں۔ اجلا س کے دور ان وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہاکہ آئین میں صدر کو آرڈیننس کا اختیار دیا گیا،احسن اقبال الفاظ کی ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔علی محمد خان نےکہاکہ احسن اقبال کے قانونی نقطے کا بابر اعوان نے جواب دیا،آئین میں واضح کیا گیا مالیاتی بل ایوان زیریں میں لایا جا سکے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت نے 100 فیصد درست اقدام کیا،احسن اقبال آدھا
گلاس خالی دیکھ رہے ہیں میں ادھا گلاس بھرا دکھاؤں گا۔انہوںنے کہاکہ آرٹیکل 89(2) کے تحت آرڈیننس کے ذریعے مجلس شوریٰ کا ہر کام کیا جاسکتا ہے۔سردار ایاز صادق نے کہاکہ آئینی نکات پر بحث اپوزیشن اور حکومت اور سپیکر کے مفاد میں ہے،آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے میں ہی ہماری عزت ہے،سپیکر صاحب آپ جلدی میں ججمنٹ نہ دیں۔ انہوںنے کہاکہ میری گذارش ہے کہ جو رولنگ آپ نے دی ہے وہ واپس لی جائے، رولنگ دینے کی بجائے حکومت اور اپوزیشن ملکر مشاورت بیٹھیں،ہم وہ کام کریں جس میں پارلیمنٹ اور آئین کی فتح ہو۔بعد ازاں مالیاتی معاملات سے متعلق آرڈیننس جاری کرنے پر اپوزیشن کے مطالبے پر اسپیکر نے اجلاس بلا لیا،اجلاس میں مشیر پارلیمانی امور ، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل حکومت کی جانب سے شریک ہونے کااعلان کیا گیا ،اسپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن کو اپنےنمائندے مقرر کرنے کی ہدایت کردی،اجلاس میں منی بل آرڈیننس کے ذریعہ لانے کا معاملہ زیر غور آئے گا،آرٹیکل 73 اور آرٹیکل 89 زیر بحث آئے گا۔اجلاس کے دور ان بابر اعوان کی جانب سے ایوان میں آرڈیننس پیش کرنے کے موقع پر پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندھی کردی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ آپ نے بس یہ ہی کام پکڑا ہوا ہے۔ آغا رفیع اللہ نے جواب دیاکہ جناب سر تسلیم خم ہے آپ کے سامنے،لیکن کورم پورا کرنا حکومت کی ٓذمہ داری ہے،اسپیکر نے ارکان کی گنتی کی ہدایت کردی۔ کورم پورا نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک مؤخر کر دی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *