حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ، وفاقی وزیر نے پہلا بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد(آن لائن /این این آئی)وزیر خزانہ کااضافی چارج دینے پر وزیراعظم کے اعتماد پرشکرگزار ہوں، 2018کے بعدسے پاکستانی معیشت استحکام کی طرف جارہی ہے ہمیں بہترین اقدامات کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ ٹوئٹرپر اپنے بیان میں حماد اظہر نے کہا کہ ہم کورونامیں معاشی خطرات سے اچھی طرح نمٹے، دنیا میںسپلائی چین میں تعطل آیا اور اشیائے خوردونوش قیمتوں میںاضافہ دیکھ رہی ہے ہمیں اپنے لوگوں کومہنگائی سے محفوظ رکھنے کے لئے کوششیں کرنی ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے عبدالحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم مہنگائی

کی وجہ سے پریشان تھے ، اس لئے وزیراعظم نے نئی ٹیم لانے کافیصلہ کیا،حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا اضافی چارج سونپا گیا ہے ، وہ مہنگائی کم کرنے اور غریب کو ریلیف دینے سے متعلق پالیسی بنائیں گے ،ملکی حقائق کومدنظررکھ کرفیصلے کرنے ہوتے ہیں،کابینہ میں تبدیلیوں سے متعلق (آج)منگل تک فائنل ہوجائیگا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ملک میں بڑھتی مہنگائی کے باعث پریشان تھے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حفیظ شیخ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے حماد اظہر کی کارکردگی سے کافی خوش اور مطمئن ہیں اس لئے ان کو وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے اور اب حکومت ایک نئے ولولے کے ساتھ کام کرے گی ،اب غریب اورعام آدمی کو ریلیف دیا جائے گا اور اب حکومت کی تمام تر توجہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ غریبوں کیلئے سوچتے رہتے ہیں وہ وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں اس لئے وہ مہنگائی پر کافی پریشان تھے جس کی وجہ سے کابینہ میں ردوبدل کرنا پڑی اور اب ہم امید کرتے ہیں کہ ایک نئی معاشی ٹیم اور نوجوان قیادت معاشی ایشوز پرقابو پالے گی اورعام آدمی کو ریلیف دینے سے متعلق پالیسی مرتب کریں گی۔شبلی فراز نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان صحت یاب ہو گئے ہیں اور ان کا کورونا کے بعد پہلا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب (آج)دوسرا ٹیسٹ ہوگا جس کے بعد وہ جمعرات کو کابینہ اجلاس کی صدارت کریں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *