2023 ء میں وزیراعظم کون ہوگا؟ منظور وسان نے بڑی پیش گوئی کردی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی/آن لائن)پی پی سینئر رہنما منظور وسان نے پیش گوئی کی ہے کہ 2023 میں بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے اورموجودہ وزیراعظم عمران خان اپنے پانچ سال پورا نہیں کر سکیں گے۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق کیس میں نیب نے پیپلزپارٹی رہنما منظور وسان کو کلین چٹ دے دی۔پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ منظور وسان کے خلاف انکوئری ختم کر رہے ہیں لہٰذا نیب ہیڈ کواٹر

سے جواب آنے تک مہلت دی جائے۔عدالت نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کر دی۔بعدازاں میڈیا سے بات چیت میں منظورحسین وسان نے کہا کہ تھوڑے سے اختلافات اور اپنی اپنی رائے ہوتی ہے، یہ مطلب نہ لیا جائے کہ پی ڈی ایم ٹوٹے گی، پی ڈی ایم قائم رہے گی۔انہوں نے کہا کہ جس مقاصد کے لیے ہمارے چیئرمین نے پی ڈی ایم بنائی اسے قائم رکھنے کے لیے سب پارٹیاں متفق ہوں گی۔پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل اہم پارٹیوں کا خیال ہے کہ ان کی انفرادی پوزیشن کے لحاظ سے اپنے اپنے موقف ہیں اس کو ساتھ لے کر فیصلہ کرنا چاہئے تو بہتر ہوگا۔انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ 2023 میں بلاول ہی وزیر اعظم ہوں گے۔صحافی نے منظور وسان سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ نے خواب دیکھا ہے عمران خان 2021 میں جارہے ہیں، اس پر جواب میں انہوں نے کہاکہ جانا ہے، مدت سے ایک سال پہلے، 10 یا 12 ماہ پہلے جانا تو ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان منفرد سیلیکٹیڈ ہیں، اس کی مثال دوسروں سے نہیں دی جاسکتی ۔ دوسری جانب مرکزی اطلاعات سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اور رکن قومی اسیمبلی شازیہ عطا مری نے کہا ہے کہ ن لیگ کی نائب صدر مریم نوازکا لہجہقابل افسوس تھا۔طعنوں کا جواب دینا جانتے ہیں مگر لڑائیوں کو طول نہیں دینا چاہتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہاؤس میں پی پی رہنماؤں شیری رحمان، مولا بخش چانڈیو و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں لہجہ سیاسی اور جمہوری رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس ہوتاہےجب پیپلزپارٹی کیلئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پیپلزپارٹی قیادت نے جیلیں کاٹی ہیں اور سلیکٹڈ کاطعنہ دیناقابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر طعنے کابھر پور جواب دینا جانتے ہیں اور پیپلز پارٹی کو ڈیل کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر ڈییل کسی اور کو ملی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ لڑائیوں کو طول دیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سنجیدہ سیاست ہو،حکومت اگر حکومت کرنا چاہتی ہے تو سنجیدگی سے حکومت کرے اور اگر حزب اختلاف کی جماعتیں مخالفت کرنا چاہتی ہیں تو وہ بھی سنجیدہ اپوزیشن کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ معافیوں کی بات نہ کی جائے ہمارے پاس معافیوں کی لمبی فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ معافیوں کی بات کے بجائے سیاست کی بات مشاورت کے ساتھ کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص کو نون لیگ نےمشاورت کے بغیر قائد حزب اختلاف نامزد کیا اس کے ساتھ ہماری رنجشیں ہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی صفوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جوموقع کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور ہم پارلیمان کیاندر اورباہر جمہوری روایات کوجاری رکھیں گے۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ کیامیرا اور انکا صبر کا پیمانہ عوام کیصبرکے پیمانے سیزیادہ ہے۔ عوام منہگائی اور کرونا پر حکومت کی غیرسنجیدگی کو بھگت رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *