اکبر ایس بابر کو ہر پیشی پر مریم سے ایزی لوڈ کی قسط ملتی ہے،حیران کن دعویٰ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے الزام عائد کیا ہے کہ اکبر ایس بابر مریم نواز کی طرف سے کیس لڑرہے ہیں اور انہیں ہر پیشی پر مریم سے ایزی لوڈ کی قسط ملتی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھاکہ اکبر ایس بابر کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، کیس ختم ہوتےہی مریم نوازسے اکبرایس بابرکوآنے والا ایزی لوڈ بند ہوجائے گا۔تحریک انصاف فارن فنڈنگ کے حوالے سے سکروٹنی کمیٹی نے ابتک کی کارروائی کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی جبکہ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے ریمارکس

دئیے ہیں کہ اکبر بابر کو دستاویزات دینے میں حرج ہی کیا ہے؟،سکروٹنی کئی سال سے چل رہی ہے اب اسے مکمل ہونا چاہیے۔ممبر پنجاب الطاف ابراہیم کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے فارن فنڈنگ کے حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے سکروٹنی کمیٹی میں جمع کرایا گیا ریکارڈ فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ممبر پنجاب نے کہاکہ ہر ٹرانزیکشن کو چیلنج کرتے رہیں گے تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا،اگر ایک شخص کی 8 یا 10 بھی ٹرانزیکشن ثابت ہوجاتی ہے تو یہ بھی کافی ہے۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہاکہ مجھے کوئی بھی کاغذ دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی،کہا جاتا ہے کہ کمیٹی میں ہی فائل کو ایک نظر دیکھ لیں۔ وکیل پی ٹی آئی شاہ خاور نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی کا موقف ہے کہ وہ پبلک ڈاکیومنٹس نہیں ہیں۔سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ ڈی جی لاء نے اب تک کارروائی کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروادی۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہاکہ جو مصدقہ کاغذ فراہم کرنے کا معیار میرے لیئے ہے وہی ان کیلئے بھی ہونا چاہیے۔ ممبر پنجاب کمیشن نے کہاکہ یہ کام تو سکروٹنی کمیٹی کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یہاں تک آفر دی کہ صرف مجھے میرے آفس میں کاغذات دیکھنے کی اجازت دی جائے میںکسی سے شیئر نہیں کروں گا۔ ممبر پنجاب نے کہاکہ کیا ان کے جمع شدہ ڈاکیومنٹس آپکو نہیں ملے۔ وکیل احمد حسن نے کہاکہ پی ٹی آئی کے جمع کردہ کاغذات اور جو سکروٹنی کمیٹی اکھٹا کرتی ہے وہ بھی فراہم نہیں کیئے جاتے۔ ممبر پنجاب نے کہاکہ کیا جو ڈاکیومنٹ آپ نے جمع کروائے کیا ان کا حق نہیں بنتا۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہاکہ پی ٹی آئی کی سیکرسی آف انفارمیشن کی درخواست مسترد بھی ہوچکی ہے۔ وکیل احمد حسن نے کہاکہ کمیشن فیصلہ کرچکا ہے کہ جو ڈاکیومنٹ آئے گا وہ اوپن ہوگا۔ ممبر پنجاب نےکہاکہ جو کاغذات آپ فراہم کررہے ہیں وہ یقیناً سچائی پر مبنی ہونگے تو دینے میں حرج کیا ہے۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہاکہ کارروائی خفیہ رکھنے کی پی ٹی آئی درخواست پہلے خارج ہوچکی ہے، الیکشن کمیشن فیصلے میں کہ چکا کہ تمام دستاویزات پبلک ہیں۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جعلی دستاویزات پر ٹھپہ نہیں لگا سکتے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن میںتمام دستاویزات کھلیں گی۔ وکیل پی پی آئی نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی اکاؤنٹس کو پبلک دستاویزات کہا تھا۔ ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہاکہ اکبر بابر کو دستاویزات دینے میں حرج ہی کیا ہے؟۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ کمیشن نے قانون اور سپریم کورٹ احکامات کو مدنظر رکھنا ہے۔ ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہاکہ سکروٹنی کئی سال سے چل رہی ہے اب اسے مکمل ہونا چاہیے۔ اکبر ایس بابر نے کہاکہ سٹیٹ بنک اور آڈٹ رپورٹ کا تقابلی جائزہ لینا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی لندن اور امریکہ کے اکاؤنٹس کاریکارڈ نہیں دے رہی۔ الطاف قریشی نے کہاکہ اکبر بابر باہر جا کر جو کچھ کہتے ہیں اس پر غور کریں، مثبت تنقید اچھی بات ہے لیکن کیس کی کارروائی پر گفتگو مناسب نہیں۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے مزید سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی سے متعلق میری درخواست سنی گئی،میرے وکیل نے دلائل دئیے کہ سکروٹنی کمیٹی میں پیش کیے گئے شواہد خفیہ رکھنا غیر قانونی ہے،سکروٹنی کمیٹی کا تحریری جواب آیا ہےاس کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے اگلے مہینے کی 6 تاریخ مقرر کی ہے،الیکشن کمیشن اس معاملے کو مزید سنے گا۔اکبر ایس بابر نے کہاکہ انہوں نے سی پیک کو داؤ پر لگا دیا ہے،میں پاکستانی شہری کے طور پر یہ جنگ جاری رکھوں گا،پاکستان کی خودمختاری کو داؤ پر لگا رہے ہیں،پاکستان کو مجبور ترین ملک ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے،اقتدار کیلئے وہ لوگ کمپرومائز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بھول جائیں،ہمیں اب اگلے سانحہ سے بچنا ہے،ہمیں ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سکروٹنی کمیٹی کا جواب نہیں پڑھا،سکروٹنی کمیٹی نے اپنے آڈر میں لکھا ہے کہ ہم مدعی کے حوالے اس لیے نہیں کر رہے کہ پی ٹی آئی کو اعتراض ہے۔فرخ حبیب نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہفارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے پی پی، پی ٹی آئی اور ن لیگ کے لیے سکروٹنی کمیٹی بنائی ہوئی ہے، پاکستان تحریک انصاف کو بار بار بے وجہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، سکروٹنی کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی ہے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کیس کی تاخیر کے ذمہ دار اکبر ایس بابر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے موقوف کی فتح ہوئی ہے،ہم اپنا سارا ریکارڈ الیکشن کمیشن کو جمع کروا چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *