عثمان بزدار اور محمود خان کی چھٹی ہونیوالی ہے،سینئر صحافی کا انکشاف‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر صحافی ضمیر حیدر نے انکشاف میں کہا کہ ذرائع نے یہ بتایا ہے وفاقی کابینہ میں ردو بدل کے بعد اپریل میں چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار اور چیف منسٹر کے پی کے محمود خان کو بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے ، اس حوالے سے مختلف ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ تبدیلی اپریل میں ہو جائے گی ۔سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ بہت سارے اور لوگوں سے بھی اس بارے میں معلومات لی گئی ہے انکا سب کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی اپریل

میں یا پھر بجٹ کے بعد یقینی ہے ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ان ہائوس تبدیلی کے لئے سرگرمیاں شروع کر دیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تیزی لائی جائے گی ، پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت حاصل ہونے کے باعث مسلم لیگ (ن) کو اپنا وزیر اعلیٰ لانے کی پیشکش بھی کر دی ۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے عید کے بعد قوم کو بڑا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ان ہائوس تبدیلی کا تحفہ دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران جماعت کے 25 سے 30 ارکان پنجاب اسمبلی رابطے میں ہیں،پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے لیے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے ،عددی اکثریت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنے وزیراعلی کا اعلان کرے پیپلزپارٹی ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ آج پنجاب میں تمام طبقات سڑکوں پر ہیں حتیٰ کہ گونگے بہرے بھی احتجاج کر رہے ہیں، اس کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے کہ اب گونگے اور بہرے بھی بول پڑے ہیں۔مہنگائی بیروزگاری اور انارکی بڑھتی جا رہی ہے،پنجاب کا وزیر اعلی نا اہل، ناکام اور نکھٹو ہے،یہ ہمارا کسٹوڈین نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے،پی ٹی آئی کے 25سے 30ممبران ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ پنجاب میں تبدیلی کیوں نہیں لاتے۔ شہباز اور حمزہ سے رابطہ کر کے بات کریں گے کہ بطور اکثریتی جماعت آگے آئیں،وزارت اعلی ان کا حق بنتا ہے، ہم نے اب آواز بلند نہ کی تو حکومت کے شریک جرم ٹھہریں گے۔قوم کو کو عید کے بعد پنجاب میں تبدیلی کی عیدی دیں گے ،جدوجہد اور رابطے تیز کرینگے،اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کے (ن) لیگ کے بیانیے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *