براڈشیٹ انکوائری کیا عظمت سعید نے تنقید کرنیوالوں کو بالواسطہ شور کرنیوالے گیدڑوں سے تشبیہ دی؟نئی بحث چھڑ گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید جنہوں نے براڈشیٹ انکوائری کمیشن کی سربراہی کی اور رپورٹ وفاقی حکومت کو جمع کروائی، انہوں نے بالواسطہ ان سیاست دانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جنہوں نے ان کی تقرری پر سخت تنقید کی تھی۔ روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے سختتنقید کے باوجود سپریم کورٹ کے سابق جج نے اپنا ذہن تبدیل نہیں کیا اور یہ ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان جنہوں نے یہ ذمہ داری انہیں دی تھی وہ بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

سابق جج نے سخت تنقید کے باوجود مکمل سکوت اختیار کیے رکھا۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تنقید کرنے والے سیاست دانوں سے اپنے انداز میں بدلہ لیا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ان کی رپورٹ کے حصے مارگلہ ہلز میں شام دیر سے لکھے گئے، جہاں وہ قیام پذیر تھے۔ جبکہ مستقل تنقید کا شورشرابہ ان کا مستقل ساتھی تھا۔ تاہم، اس کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے لکھا کہ بدعنوانی پر معافی مانگنے والے درجنوں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ کیا یہ رجحان قدیم قبائلی نظام ، اخلاقی گراوٹ کا عکاس ہے یا ایسے افراد بیجا امید لگائے ہوئے ہیں۔ جو بھی ہے، جیسا کہ کسی نے کہا ہے اور میں نے نقل کیا ہے۔ جب بھی میں کرپشن دیکھتا ہوں تو اپنےطریقے سے حقائق تلاش کرنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔ میں منافقت برداشت نہیں کرسکتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے فعال ہونے سے قبل ہی بیوروکریسی محتاط ہوکر خوفزدہ گھونگھے کی طرح اپنے شیل میں چلی گئی تھی۔ متعدد وزارتوں/ڈویژنز/محکموں کی جانبسے عدم تعاون کا یہ عالم تھا کہ جس پر موہن داس کرم چند گاندھی(مہاتما گاندھی)بھی فخر کرتے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ متعلقہ ریکارڈ کو چھپانے اور سامنے نہ لانے کی ہرممکن کوشش کی گئی تاکہ موجودہ اور ان سے قبل کے سیاسی مستفید کنندگان کی کرپشن اور نااہلی پرپردہ ڈالا جاسکے۔ حیرت انگیز طور پر ایک سے زائد محکمے اور براعظم کا ریکارڈ کھوگیا۔ صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کا ریکارڈ بھی گم ہوگیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل شیخ عظمت سعید نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر تھے۔اپنی ذمہ داری سے قطع نظر ان کے دور میں ہی نیب نے براڈشیٹ معاہدہ کیا تھا، جس سے پاکستان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ جب کہ وہ اس پاناما بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے نوازشریف کو بطور وزیراعظم ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ن لیگ رہنمائوں نے ان کے انکوائری کمیشن کے چیئرمین بننے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *