براڈشیٹ کمیشن نے عدلیہ کے اپنے ہی سکینڈل کو نظرانداز کردیا انصار عباسی نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا، ہوشربا انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی زیر قیادت قائم کردہ براڈشیٹ کمیشن نے بڑی آسانی سے عدلیہ کے اپنے ہی سکینڈل کو نظرانداز کردیا جس میں مختلف احتساب عدالتوں کی جانب سے سنائے جانے والے ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیسز کے فیصلوں کو نقل کیا گیا تھا اور ان کیسوں میں شریک ملزم آصف علی زرداری کو 2011 میں بری کردیا گیا تھا۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق یہ معاملہ صرف ججوں کے سنگین مس کنڈکٹ کا نہیں بلکہ اس میں کیسوں کو حتمی شکل دیدی گئی اور مشکوک انداز میں ایک

ایسے وقت کیس کا فیصلہ آصف زرداری کے حق میں سنایا گیا جب وہ صدرِ پاکستان تھے۔ عظمت کمیشن نے زرداری کی نون لیگ کے دورِ حکومت میں بریت کا معاملہ تو اٹھایا ہے اور اس کیلئے ان کیسوں کے ریکارڈ کی گمشدگی کا ذکر کیا ہے لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ احتساب عدالتوں کے ججوں نے 2011 میں کس طرح کیسوں کا فیصلہ شریک ملزم زرداری کے حق میں سنایا۔ جو بات حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ سنگین غلطی کا ارتکاب ہونے کا معاملہ طے ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود نہ صرف متعلقہ ججوں کو کسی سزا کے بغیر مکمل پنشن فوائد کے ساتھ ریٹائر ہونے دیا گیا اور اس متنازع انداز سے سنائے گئے کیسوں کے فیصلوں پر بھی دوبارہ کوئی ٹرائل نہیں ہوا۔ نیب نے بھی ان کیسوں کا فیصلہ زرداری کے حق میں سنائے جانے میںکردار ادا کیا تھا لیکن ادارے نے کمیشن کو ملک کے نظام انصاف کے اس سنگین اسکینڈل کے متعلق نہیں بتایا۔ انکوائری میں ثابت ہوا تھا کہ دو مختلف احتساب عدالت کے ججوں کے فیصلوں میں سنگین غلطیاں موجود ہیں۔ متعلقہ ججوں کیخلاف انکوائری صرف اس وجہ سے روکدی گئی کہ یہ لوگ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اس وجہ سے نہ صرف ان ججوں کو کھلی چھوٹ مل گئی بلکہ اس اقدام کی وجہ سے اسکینڈل زدہ فیصلے تاریخ کا حصہ بن کر بند ہوگئے کیونکہ اب تک کسی نے ان فیصلوں پر دوبارہ ٹرائل نہیں کیا۔ریٹائرمنٹ کی وجہ سے نہ صرفیہ ججز ممکنہ جرمانے یا سزا سے بچ گئے بلکہ ان کے سنائے گئے متنازع فیصلوں کو آج تک کسی نے چیلنج بھی نہیں کیا۔ ایس جی ایس کیس کا فیصلہ 30 جولائی 2011 جبکہ کوٹیکنا کیس کا فیصلہ 16 ستمبر 2011 کو سنایا گیا تھا۔ دونوں ججوں کے تحریر کردہ فیصلوں میںیکسانیت اور مماثلت حیران کن اور ناقابل یقین تھی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کیسز ابتدا سے ہی علیحدہ تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آر وائی گولڈ ریفرنس اور ایس جی ایس ریفرنس کے فیصلے احتساب عدالت نمبر دوم کے جج نے لکھے تھے اور اس کا اعلان 30 جولائی 2011 کو کیا گیا تھا، اس فیصلے میں عجیب خامیاں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم یہ بات تھی کہ سابق سیکریٹری فنانس اور اس وقت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک کو بطور پراسیکوشن گواہ قبول کیا گیا تھا لیکن اسی شخص کو اسی عدالت نے اے آر وائی گولڈ کیس میں اشتہاری قرار دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *