نہار منہ سورۃاخلاص پڑھنے سے اتنا پیسہ آئے گا کہ آپ خود بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سورۃ اخلاص کتنی چھوٹی سی سورت ہے اس کو پڑھنے۔کی فضیلت بہت ہی زیادہ ہے نہار منہ پڑھنے کے حیران کن واقعات ہیں اللہ پاک اس چھوٹی سی سورت میں کیسے زندگی تبدیل کر دیتے ہیں۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جو اس سورت کو کثرت سے پڑھتا ہے اس کے جناز ہ میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوتے ہیں مسند ابو یعلی میں ہے کہ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیںہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس

سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا نبی ﷺ کے پاس جبرائیلؑ تشریف لائے تو نبی ﷺ نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے تو جبرائیل ؑ نے فرمایا آج مدینہ میں معاویہ بن معاویہ لیثی ؓ کا انتقال ہوگیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں پوچھا ان کے کس عمل کے باعث فرمایا وہ سورہ اخلاص یعنی قل ھواللہ احد کو دن رات چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں۔ اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کرلیں آپ نے فرمایا بہت اچھا پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی اور ایک اور فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ لے کر وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کر دیا جائے ۔1۔جو اپنے قاتل کومعاف کردے ۔ پوشیدہ قرض ادا کر دے ۔ ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص کو پڑھ لے ۔سیدنا ابو بکر صدیق ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے آپ نے فرمایا پھر بھی یہی درجہ ہے نبی ﷺ ایک مرتبہ کہیں سے آرہے تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابو ہریرہ ؓ تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا واجب ہوگئی سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے پوچھا کیا واجب ہوگئی۔ فرمایا جنت ۔ایک انصاری مسجد قبا کے اما م تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر کوئی اور سورت پڑھتے ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھیئے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے انہوں نے جواب دیا میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا تم چاہوں تو مجھے امام رکھو کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دیتا ہوں اب انہیں یہ بات بھاری پڑھی جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہوسکا ایک دن جب کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا آپﷺ نے امام صاحب سے کہا تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہررکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہوں وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپﷺ اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا ۔اس کے علاوہ بھی سورہ اخلاص کے بہت زیادہ فضائل ہمیں حدیث نبوی ﷺ سے معلوم ہوتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *