ایک جانب وزیراعظم کی سادگی مہم، دوسری جانب گورنر ہاؤس کیلئے 3 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی سمری وزیراعلیٰ کو بھجوا دی گئی

پشاور(مانیٹرنگ+آن لائن) گورنر ہاؤس پشاور کے لئے تین نئی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں، تین بی ایم ڈبلیو بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی سمری وزیراعلیٰ کے پی کے کوارساد کر دی گئی ہے، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی مالیت 11 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ اس سے قبل بھیگورنر خیبرپختونخوا کے پاس دو بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان و رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے رکشہ ڈرائیورزکے لئے پشاور میں

روزگار بند کردینا افسوسناک ہے۔ 80 ہزار غریب خاندانوں کا رزق رکشہ چلانے سے جڑا ہوا ہے۔موجودہ حکومت ان سے موجودہ روزگار چھیننے کے درپے ہے۔پشاور پریس کلب میں انفارمیشن کمیٹی کے اراکین صلاح الدین خان مومند، ڈاکٹر زاہد خان، میاں بابر شاہ اور حامد طوفان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمرہارون بلور نے کہا کہ حکومت یا تو ان کو متبادل روزگار فراہم کرے اور یا ان کے لئے خصوصی فنڈز کا اعلان کرے کہ ان کے بچوں کو بھی دو وقت کی روٹی نصیب ہو۔ تبدیلی سرکار میں گورنر کے لئے کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے لئے تو فنڈز موجود ہیں لیکن غریب عوام کے لئے نہیں۔ موجودہ حکومت عام عوام کے مسائل سے بہت دور ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی صلاح الدین مومند نے کہا کہ رمضان کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی کی سونامی کا دعوی کرتے تھے لیکن حقیقت میں بے روزگاری اور مہنگائی کی سونامی آئی ہوئی ہے۔ بیروزگاری میں مزید پانچفیصد سے زائد اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔اشیائے خوردونوش کی قیمتیں پہلے سے ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ان میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت پہنچ سے باہر ہے۔دنیا بھر میں کورونا کی وبا میں پٹرول کی قیمتیں سب سے کم تھی لیکن پاکستان میں اسدوران بھی سب سے زیادہ رہی ہیں اور مزیداضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹینر پر چڑھ کر کپتان بجلی کے جو بل جلاتا تھا ان میں تبدیلی سرکار نے ڈھائی سال میں 43 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے لیکن حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اے اے این پی کی صوبائیترجمان ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے شوکاز نوٹس دے کر عوامی نیشنل پارٹی کی تضحیک کی گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ عوامی نیشنل پارٹی ایک خودمختار اور جمہوری سیاسی جماعت ہے، پی ڈی ایم نے کس آئین اور اختیار کے تحت اے این پی کو شوکاز نوٹسدیا۔ عوامی نیشنل پارٹی سو سالہ تاریخ رکھتی ہے۔کسی کی خوشنودی کے لئے اپنے اصولوں اور نظریئے کا سودا نہیں کرسکتے۔پی ڈی ایم کی جن جماعتوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس دینے کے لئے اجلاس بلایا تھا انہوں نے ہی پی ڈی ایم کو توڑا۔ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ اور نااہل حکومت کے خلاف عوامی نیشنلپارٹی پی ڈی ایم میں نیک نیتی سے گئی تھی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کے حقوق اور ووٹ کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ لیکن پی ڈی ایم میں رہتے ہوئے بھی اے این پی کے ساتھ سوتیلا پن کیا جارہا تھا۔مختلف مرحلوں میں تلخیاں پیدا ہوئیں لیکن اے این پی نے کبھی اظہار نہیں کیا۔ چند جماعتوں کی جانب سے اپنےفیصلے دیگر جماعتوں پر مسلط کرنا قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نا کسی کی ایما پر پی ڈی ایم کا حصہ تھی اور نا کسی کو خوش کرنے کیلئے پی ڈی ایم کو چھوڑا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے سیاست میں آنے والوں کی جانب سے اے این کو طعنے دینا زیب نہیں دیتا۔ عوامی نیشنل پارٹی اس مٹی کی وارث ہے، پی ڈی ایم کا حصہ ہو یا نہ ہو عوام کے حقوق کے لئے اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *