صدقے میں جو لوگ اپنے پھٹے پرانے کپڑے غریبو ں کو دیتے ہیں ان کیساتھ قیامت کے دن کیا سلوک ہو گا ؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اسلام میں صدقے کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اس کے اتنے بے شمار فضائل ہیں کہ آپ جان کر حیران ہو جا ئیں گے ہمارا مذہب اسلام صدقے دینے کا حکم فر ما تا ہے اور کہتا ہےکہ ہمارے جو غریب لوگ ہیں ان کی مدد کرو۔ ان کی ہر حالت میں مدد کرو۔ جہاں پر اللہ نے زکوٰۃ کو فرض فر ما یا وہاں پر صدقے کی ترغیب بھی آئی ہے۔اللہ نے امیروں کے معاملے میں غریبوں کا حق رکھا ہے تا کہ امیر غریبوں کے ساتھا چھا سلوک کر یں اور انہیں حقارت

کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور اگر وہ ایسا کر یں گے تو اللہ کی نظروں میں گر جا ئیں گے۔ اپنے صدقات کے ساتھ خیر خواہی کر سکیں اور صدقے کا اللہ نے بڑا اجر رکھا ہے صدقے کا اللہ کے ہاں کیا اجر ہے اس بارے میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے ارشاد فر ما یا جس نے حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر صدقہ دیا اور یاد رہےکہ اللہ حلال کمائی ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اپنے ہاں اس کی اس طرح پرورش کر تا ہے جس طرح کو بچھڑے کی پرورش کر تا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی مانند ہو جا تا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ صدقہ و خیرات صرف حلال کمائی سے ہی دیا جا سکتا ہے حرام کی کمائی سے نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول فر ما تا ہے دوسری بات یہ معلوم ہو ئی کہ اللہ پاک قیامت کے دن صدقہ و خیرات کرنے والوں کو عملوں میں پہاڑ کی مانند اجر و ثواب عطا فر ما ئے گا۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *