پی ٹی آئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں ، کیا جہانگیر ترین تحریک انصاف چھوڑ رہے ہیں ؟اندرونی کہانی کھل کر سامنے آ گئی

[ad_1]

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سیاسی رہنما جہانگیر ترین نے عدالت پیشی سے قبل اپنی رہائش گاہ پر تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سےملاقات کی اندرونی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ نجی ٹی وی ذرائع نے بتایا ہے کہ جہانگیر ترین نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے وفاداری کیلئے زور دینے کا عندیہ دیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہتحریک انصاف کا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری مخدوم احمد محمود

سے کوئی سیاسی ملاقات نہیں ہوئی۔ جہانگیر خان ترین نے کہا کہ میری آصف زرداری سے کوئی ملاقات شیڈول نہیں،شہلا رضا کا بیان من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔انکا کہنا تھا کہ میری پی ٹی آئی سے پرانی وابستگی ہے، پارٹی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا کہ پارٹی اور وزیراعظم کی جانب سے مفاہمت کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ پارٹی رہنماوَں کے رویوں پر نظر رکھی جائے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے جہانگیر ترین کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ اراکین نے کہا کہ ہم خیال گروپ کے تمام اراکین آپ کے ساتھ ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اراکین نے کہا کہ حکومت اور پارٹی رہنماوَں کو جہانگیر ترین کی مفاہمت کے اشارے کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ مفاہمتی پیشکش کا جواب مثبت نہ ملا تو آخری حد تک جائیں گے۔دوسری جانب ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کی شوگر مگز اور دیگر اداروں کے تین اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں، اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جے ڈی ڈبلیو کے تین عہدیداروں کے نام بھی بلیک لسٹ پر ڈال دیے ہیں، یہ تینوں عہدیدار بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ نجی ٹی وی کو ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ جے ڈی ڈبلیو، ترین فارم سسٹم اورترین ڈیری فارم کے 3 اکاؤنٹس منجمد کرکے فارنزک آڈٹ کروایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جے ڈی ڈبلیو کے دو ملازمین جو سٹہ بازی میں ملوث ہیں ان کے اکاؤنٹس بھی فارنزک آڈٹ کے لئے منجمد کر دیے گئے ہیں، واضح رہے کہ شوگر ملز میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 10 اپریل تکتوسیع کر تے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔جہانگیر ترین اور علی ترین اپنے وکلاء کے ہمراہ لاہور کی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے۔بینکنگ کورٹ کے جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے سماعت 10اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔جہانگیر ترین کی عدالت پیشی کے موقع پر صوبائی وزراء، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ان کے ہمراہ پیش ہوئے جسے غیر اعلانیہ سیاسی پاور شو قرار دیا جارہا ہے۔صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال،نذیر بلوچ، راجہ ریاض،سلیمان نعیم،غلام بی بی بھروانہ، خرم لغاری،چوہدری افتخار گوندل،اسلم بھروانہ،طاہر راندھاوا اور امیر محمد خان سمیت دیگر جہانگیر خان ترین اور ان کے صاحبزادے کے ہمراہ پیش ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ تمام شخصیات جہانگیر ترین کی لاہور میں واقع رہائشگاہ پر بھی جمع ہوئے۔ دوسری جانب سینئر سیاسی رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہایک سال سے چپ ہوں پھر بھی میری وفاداری کا امتحان لیاجارہا ہے،، میری وفاداری کا اور کیا ثبوت چاہیے، میری تحریک انصاف سے راہیں جدا نہیں ہوئیں،تحریک انصاف میں موجود ہوں اور رہوں گا،ہم تحریک انصاف سے اس وقت انصاف مانگ رہے ہیں،جوانتقامی کارروائی کرارہا ہے اس کوبے نقاب کیاجائے، عمران خان ان عناصر کوبے نقاب کرسکتے ہیں، مجھے عمران خان صاحب سےدورکردیاگیاہے۔عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ پرایک نہیں،دو نہیں بلکہ 3ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، کیس ابھی شروع نہیں ہوا اور میرے اور میرے بیٹے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دئیے گئے،اکاؤنٹس کیوں منجمد کئے، اس سے کیا فائدہ، کون کر رہا ہے۔انہیں سب شوگر ملزمیں سے صرف جہانگیرترین نظرآیاہے،کیاآپ کاکیس اتنا کمزورہے کہآپ عدالت میں بات نہیں کرتے،میڈیا میں میرے خلاف گند اچھالتے ہیں، انتقامی کارروائی کی وجہ کیا ہے؟ ایک سال سے مجھ پرشوگرکمیشن چل رہاہے، ایک سال سے چپ ہوں،ظلم بڑھتا جا رہا ہے، دوست تھا دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟۔ تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں، جوانتقامی کارروائی کرارہا ہے اس کوبے نقاب کیا جائے، عمران خان ان عناصر کوبے نقاب کرسکتے ہیں،مجھے عمران خان سے دورکردیاگیا۔جہانگیرترین نے مزید کہا کہ دس سال پارٹی کے لیے خون پسینہ ایک کیا، میرے جانے سے تحریک انصاف کو بھی نقصان پہنچے گا۔جہانگیرترین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں کی دو ٹوک اندازمیں تردید کرتے ہوئے کہا میں تحریک انصاف میں شامل ہوں اور رہوں گا، میرا آصف زرداری سے ملاقات کاکوئی ارادہ نہیں، آصف زرداری سے ملاقات کی باتوں میںحقیقت نہیں، ایسی کوئی ملاقات نہیں ہو رہی۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے کہا کہ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں سب سے زیادہ کردار جہانگیر ترین کا تھا، عمران خان نے جہانگیر ترین کی وجہ سے ہی اعتماد کا ووٹ لیا، وزیراعظم کے اردگر بیٹھے لوگ خرابیاں پیدا کر رہے ہیں، وزیراعظم اپنے اچھے کو دوست کو نہ کھوئیں۔ جہانگیر ترین کی وجہ سے پنجاب حکومت بنی۔



[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *