جہانگیر ترین اور علی ترین کی ایف آئی اے میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،حیران کن انکشاف

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جہانگیر ترین اور علی ترین کی ایف آئی اے میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اپنے جوابات سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم کو مطمئن نہیں کر سکے۔تفصیلات کے مطابق چینی اسکینڈل میں ایف آئی اے میں پیشی کے موقع پر سوالات کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا انھیں نہیں معلوم کہ جے کے فارمز کے بیچے گئےاثاثوں کی فہرست کہاں ہے۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے سوال کیا کہ کمپنی کی 4 ارب قیمت کا تعین کس نے اور کیسے

کیا، گنے کا کاروبار بیچنے کی قیمت چار ارب پینتیس کروڑ روپے کیسے لگائی گئی؟ جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ 4.35 ارب قیمت مل کے ملازمین نے مقرر کی تھی، علی ترین نے اپنے رقم خرچ کرنے کے حوالے سے جواب میں کہا کہ 4.35 ارب روپے سے خاندان کی کمپنی کے ذمے قرضے اتارے۔جہانگیر ترین نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ ان کے بیرون ملک اثاثے ایف بی آر میں ظاہر ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایم سی بی کے کہنے پر انھوں نے فاروقی پلپ میں سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اس سرمایہ کاری میں 3 ارب روپے کا نقصان ہوا، اس سلسلے میں پبلک شیئر ہولڈرز سے کوئی حقیقت نہیں چھپائی گئی۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحب زادے کو 7 ارب سے زائد کے مبینہ مالیاتی فراڈ کی تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے میں 2 ایف آئی آر درج ہیں۔ دونوں باپ بیٹے سے پانچ پانچ سوالات پوچھےگئے تھے، جہانگیر ترین نے 10 اپریل تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرا رکھی ہے۔آج وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چینی سٹہ مافیا اور جے ڈی ڈبلیو کیس میں علی ترین کے 21، اور جہانگیر ترین کے 14 اور اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمد کیا ہے، ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے موجود ہیں، 9 سرکاری، نجی بینکوں میں جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 اکاونٹس منجمد کیےگئے ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *