ن لیگ نے این اے 75 ڈسکہ کا میدان مار لیا، تحریک انصاف کو شکست

ڈسکہ/لاہور(این این آئی)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ایک مرتبہ پھر ہونے والے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن )کی سیّدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کو 19ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دیدی ، مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے جیتکی خوشی میں جشن منایا ، مٹھائیاں تقسیم کر تے ہوئے ایک دوسرے کو مبارکبادی دی اور اپنی قیادت کے حق میں شدید نعرے بازی کی ،کسی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی انتہائی سخت رہی اور صبح آٹھ بجے سے شام

پانچ بجے تک پر امن پولنگ جاری رہی ۔ ہفتہ کو غیر حتمی اور غیر سر کاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کی نشست مسلم لیگ (ن) کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی کو شکست دیکر جیت لی ،ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لیکر کامیابی ہوئیں،پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی نے 92 ہزار 19ووٹ حاصل کیے اور انہیں 19 ہزار 201 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن)کی نوشین افتخار نے ٹوئٹر بیان میں اپنی جیت کا دعویٰ کیا جس کے بعد ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نوشین افتخار کی جیت کی خوشی میں جشن منایا اور آتش بازی کا مظاہرہ کیا ۔واضح رہے کہ 19 فروری کو قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ فور) میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے اور فائرنگ کے واقعہ میں دو افراد جاں بحقاور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔20 پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ لاپتا بھی ہوگئے تھے جو اگلے روز صبح 6 بجے آر او دفتر پہنچے۔ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیر ضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیر حتمینتیجے کے اعلان سے روک دیا تھا۔مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خاں نے ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) کے اْمیدوار سے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہپولنگ کی درخواست دینے کا کہا تھا جس پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بناتے ہوئے این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیا اور 18 مارچ کو حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا جس پر اس ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نےسپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صورتحال اور حقائق کو بالکل فراموش کرتے ہوئے فیصلہ کیا جو واضح طور پر غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے دستیاب ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا، حلقے میں دوبارہ انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے۔بعد ازاں 25 مارچ کو سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا حکم دے دیا تھا، جس کے بعد ضمنی انتخاب کی تاریخ بڑھا کر 10 اپریل کردی گئی تھی۔2 اپریل کو سپریم کورٹ نے حلقے میں دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی درخواست مسترد کردی تھی۔

Leave a Comment