ڈسکہ ضمنی انتخاب ، ن لیگ نے حلقے میں 12کروڑ بانٹے فردوس عاشق کا جلد الیکشن کمیشن کو ثبوت دینے کا اعلان

لاہور(این این آئی) معاون خصوصی وزیراعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ن لیگ نے حلقہ این اے 75میں 12کروڑ روپے لوگوں میں تقسیم کرکے ووٹ خریدے اس ضمن میں جلد ثبوتوںکے ساتھ الیکشن کمیشن میں رجوع کریں گے- پی ٹی آئی سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ڈسکہ کے عوام پی ٹی آئی کے ووٹرز ، تنظیمی عہدیداران اورپارٹی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے این اے 75میں منشیات فروشوں ، قبضہ گروپوں اور جرائم پیشہ عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی محنت کی

بدولت ہمارے امیدوار کو 2018کے الیکشن سے بھی 37فیصد زیادہ ووٹ ملے- پی ٹی آئی کے ووٹوں میں اضافہ وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی مقبولیت میں اضافے اور ان کے ویژن کی قبول عام کی واضح دلیل ہے-انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نے جس طرح الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں اپنے حق کی جنگ لڑی اور مخالفین کے میڈیا پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا وہ قابل تحسین ہے-وہی میڈیا آج خود اس امر کا اعتراف کررہا ہے کہ پی ٹی آئی کو 20ہزار ووٹوں کے خسارے کا ڈنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے پڑا ہے-انہوں نے کہا کہ آر او سیالکوٹ خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٹھان لی تھی کہ اس حلقے سے ہر حال میں ن لیگ کو کامیاب کروانا ہے اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے ان کو سخت کوشش اورتگ و دو کرنی پڑی جس کے بعد وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوگئے- ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک ایسے ضلع میںیہ الیکشن کرائے جہاں کرونا عروج پر تھا اور دوران پولنگ کرونا ایس او پیز کی شدید خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں- انہوں نے کہا کہ ہم نے سارا دن پولنگ ٹرن آؤٹ 17 اور18فیصد مانیٹر کیا مگر انتخابی نتائج میں ٹرن آؤٹ کا 43.3فیصد نکلنا اپنی جگہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے- انہوں نے کہا کہ 40سال سے اس حلقے میںمنشیات فروشوں نے لوگوں کو پڑیاں دے کرجو ماحول پیدا کررکھا ہے اس میں عوام کو جگانے کے لئے ابھی مزید محنت درکار ہے جو ہم کریں گے اور یہاں کے عوام کو گدی نشینوں اور ٹھگوں ، مدمعاشوں کے نرغے سے نکال کر دم لیں گے- انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے اس حلقے میں 12کروڑ روپے تقسیم کئے ، بریف کیس والی سرکار کے نواسے اور دیگر ن لیگی رہنما میڈیا پر بھی ہرگاؤں اور یونین کونسل میں گھومتے پائے گئے اور ووٹوں کا خریداری کا مکروہ دھندا کیا- انہوں نے کہا کہہمارے امیدوار نے 19فروری کے الیکشن میں 92ہزار ووٹ لئے تھے جو آر او کے کردار اور حکومت مخالف پراپیگنڈے اور پریزائیڈنگ افسر وں کے اغواء جیسے الزامات کے باوجود حاصل کئے گئے جبکہ 10اپریل کے الیکشن میں ان ووٹوںمیں رینجر، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کی سخت نگرانی میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا-اس کا مطلب یہ ہے کہ 19فروری کاالیکشن بھی درست تھااور محض پراپیگنڈے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا جیتا ہوا یہ الیکشن اس کی شکست میں تبدیل کیا گیا-انہوںنے کہا کہ 19فروری کے الیکشن میں تحریک لبیک پاکستان نے 28ہزار ووٹ لئے تھے لیکن پرسوں کے الیکشن میں ایک کرپٹ اتحاد کے ذریعے ٹی ایل پی کو محض 8ہزار ووٹوں تک محدود کردیا گیا-انہوں نے کہا کہ میں نے پریس کانفرنس لاہور میں کی تھی لیکن مجھے نوٹس آر او سیالکوٹ نے بھیجاکیا یہ نوٹس صرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا مقدر ہیں جبکہ ہم نے تصویروں کےساتھ میڈیا میں شیئر کیا ہے کہ کس طرح ن لیگ کے رہنما بشمول حمزہ شہباز حلقے میں دھندناتے پھررہے تھے جبکہ الیکشن کمیشن وزیراعظم کے دو نہیں ایک پاکستان کے ویژن کے برعکس صرف ہماری پارٹی کے لوگوں کو نوٹس کررہا ہے-انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے آپس میں دست و گریبان پارٹیاں بھی بغض عمران میں اکٹھی ہو جاتی ہیں مگر ہم اعلی انتخابی روایات پر عمل کرتے ہوئے تمام تر وسائل اور اختیار ہونے کے باوجود شفاف اور پرامن انتخابات کا وعدہ پورا کرتے ہیں-

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *