تیسری لہر انتہائی خوفناک قرار ، رونا کنٹرول نہ ہوا تو صورتحال 2ہفتوں میں خراب ہو جائے گی ، وفاقی وزیر اطلاعات نے عوام کو خبر دار کر دیا

اسلام آباد (این این آئی) فاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا بیانیہ مکمل طورپر دفن ہوچکا ہے، پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے سکتی تھی، ن لیگ اور جے یو آئی کو نظر ثانی کرنی چاہیے،چاہتے ہیں (ن )لیگ اور جے یو آئی اور پیپلزپارٹی اپنی اصلاحات کی سیاست شروع کریں، اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، 2ہفتوں میں کورونا کی شرح کو نیچے نہ لائے تو صورتحال سنگین ہوجائے گی،تیسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہے،ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو کورونا تیزی

سے پھیل سکتا ہے،سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال تیزی سے بگڑرہی ہے۔ منگل کو وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہے، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل نہ ہوا تو کورونا تیزی سے پھیل سکتا ہے۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر اسد عمر نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اگر صورتحال دو ہفتوں میں بہتر نہ ہوئی تو اس کے نتیجے میں عید کی شاپنگ اور عید کے دنوں میں کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیلے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ اب سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال تیزی سے بگڑرہی ہے اور ملک میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یوز ) میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 2 ہفتوں میں کورونا کیسز کی شرح کو نیچے نہ لاسکے تو بدقسمتی سے صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی اور خصوصاً سندھ و بلوچستان اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ اب تک کورونا کے 4200 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں اور یہ تعداد پہلے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہویکسین کی درآمد پر معاون خصوصی فیصل سلطان اور وفاقی وزیر اسدعمر نے مکمل توجہ رکھی ہوئی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ کورونا ویکسین کی جلد از جلد درآمد کی کوشش کررہے ہیں اور اس ضمن میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ویکسین زیادہ سے زیادہ دستیاب کی جائے۔ انہوں نے ایک بارپھر کہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہوا تو کورونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے،مختلف شہروں میں رینجرز کی تعیناتی سے متعلق منظوری دی گئی۔وفاقی وزیر نے بتایاکہ لاہور کے اہم ترین منصوبوں پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، لاہور میں دو منصوبے لائے جا رہے ہیں،والٹن روڈ 350 ایکڑ پر اور وحت کالونی 270 ایکڑ پر مشتمل ہے، نیشنل کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ وفاقی وزیر نے بتایاکہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کے لئے نئے اشتہار منظوری دی گئی۔ انہوںنے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے وراثت کے لئے سیکشن سرٹیفکیٹ کے لئے سہولت پیدا کر دی گئی ہے،زائرین مینجمنٹ پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے۔فواد چوہدری نے کہاکہ وزارتوں اپنے معاملات چلانے کے لئے مزید امپاور کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ 1992اور 1994 سے پاکستان نے پورٹ چارجز نہیں بڑھائے پورٹ چارجزکومزید کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ نے پاکستانی مصنوعات کی رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری دی ہے،کابینہ نے برآمدات میں اضافے کیلئےرجسٹریشن اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی،پی ڈی ایم کا اتحاد زیادہ چلنا ہی نہیں تھا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت کو گھر بھیجنے کا بیانیہ مکمل طورپر دفن ہوچکا ہے، پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے سکتی تھی، ن لیگ اور جے یو آئی کو نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ چاہتے ہیں (ن )لیگ اور جے یو آئی اور پیپلزپارٹی اپنی اصلاحات کی سیاست شروع کریں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ہم پھر آپ کو اصلاحات کا موقع دے رہے ہیں، اپنا اصلاحات کا پیکج لے کر آئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم اب نہیں رہا، پیپلزپارٹی ،جے یو آئی اور ن لیگ سے بات کرنے کو تیار ہیں، تینوں جماعتوں سے الگ الگ بات کرنے کوتیار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چینی اور آٹے کی قیمت میں کمی آرہی ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *