پیپلز پارٹی سے توقع نہیں تھی باپ کو باپ بنائیں گے مولانا فضل الرحمان نے بھی دھماکہ خیز اعلان کر دیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم کے)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم سے استعفوں کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ، ہم بات سننے کے تیار ہیں ،پیپلز پارٹی سے توقع نہیں تھی باپ کو باپ بنائیں گے،فیصلوں کی خلاف ورزی پر وضاحت طلبی وقت کا تقاضا تھااور دونوں جماعتیں باوقار انداز میں وضاحت کا جواب دیتیں،پی ڈی ایم عہدوں اور منصب کیلئے لڑنے کا فورم نہیں ، ہم نے بیان بازی میں نہیں الجھنا،یہ ہماراآخری بیان ہے،پی ڈی ایم اپنے فیصلے

رمضان میں کر لے گی، پی ڈی ایم کی تحریک، رفتار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، اس کی رفتار اور آگے بڑھنے میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے،ٹی ایل پی کیساتھ جو ہوا وہ بہتر نہیں، انتظامی معاملات خوش اسلوبی سے نمٹنے چاہئیں، تحریک لبیک سے معاہدہ پورا کریں۔ منگل کو پی ڈی ایم مشاورتی اجلاس مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہوا جس میںشاہد خاقان عباسی، میر طاہر بزنجو، آفتاب شیر پائو اور احسن اقبال اور دیگر پی ڈی ایم رہنما شریک ہوئے۔پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی پی ڈی ایم کی علیحدگی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پی ڈی ایم کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا،جو قائدین تشریف نہیں لائے ان سے فون پر رابطہ ہوا،اتفاق رائے سے بیان تیار کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم دس جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے،تمام جماعتوں کی حیثیت برابر ہے تاہم اتحاد کا باضابطہ تنظیمی ڈھانچہ بھی ہے،صدر کے ساتھ نائب صدور، سیکرٹری جنرل، ڈپٹی سیکرٹری جنرل، سیکرٹری اطلاعات سب ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے اکثر فیصلے اتفاق رائے سے قوم کے سامنے آئے،چیئرمین سینٹ، ڈپٹی چیرمین سینٹ اور قائد حزب اختلاف کا تعین اتفاق رائے سے ہوا،ظاہر ہے جب فیصلوں کی خلاف ورزی ہوئی اور اس کے نتائج برآمد ہوئےتو ایک تنظیمی تقاضا تھا کہ جس جماعت سے شکایت ہے ان سے وضاحت طلب کی جائے ، ہر جماعت کی قیادت یہ جانتی ہے اور خود اپنی جماعت کے اندر تنظیمی معاملات ایک ضابطہ کار کے تحت سر انجام دیتے ہیں ، یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے ،یہ کوئی نئی بات نہیں، تنظیمی ڈھانچہ کے اندر یہ وضاحت طلب کی،اپنے ساتھیوں اور ان کی عزت نفس کا پورا خیال رکھا،جو وضاحت طلب کی اس کا متن میڈیا کو نہیں بتایا۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہاکہ مکمل وقار کو مدنظر رکھ کر وضاحت طلب کی گئی،دونوں سیاسی جماعتوں کے قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ اپنے ساتھیوں کو باوقار امداز میں جواب دیتے،غیرضروری عزت کا سوال بنانا سیاسی تقاضوں کے خلاف تھا،وہ کہ سکتے تھے سربراہی اجلاس میں جوابدیں گے ، وہ کہہ سکتے تھے اسٹیئرنگ کمیٹی میں جواب دینگے ، خبریں آئیں ہم سے کہا گیا یہ کون ہوتے ہیں ؟ہم سے پوچھنے والے اور طلبی کا نوٹس پھاڑ دیاگیا انہوںنے کہاکہ وضاحت سے کہتا ہوں پی ڈی ایم ایک سنجیدہ فورم ہے ،جو قومی مقاصد کیلئے قائم کیا گیا،پی ڈی ایم چھوٹے چھوٹے عہدوں یامنصب پر لڑنے کی بات نہیں،ہم نے بہت مشکل حالات کو افہام و تفہیم سے حل کیا،سب کچھ اس لئے کیا کہ پاکستان کے مقاصد اور سیاست مدنظر رکھے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ فورم کے عظیم مقصد کو مدنظر رکھ کرہم سمجھتے ہیں اب بھی ان کیلئے موقف ہے کہ اپنا فیصلہ پر نظرثانی کریں،وہ پی ڈی ایم سے رجوع کریں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان اور قوم کو جو مسائل ہیں، وہ سب آپ کے سامنے ہیں ،ملک کی بقا کا سوال ہے، ہم اپنے سیاسی مقاصد مدنظر رکھ کر فیصلے نہ کریں،افسوس ہے پی ڈی ایم سےعلیحدگی کا اعلان کردیا ہے،ہماری کوشش ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم ان کو کہتے ہیں میچورٹی کا مظاہرہ کریں۔ بلاول بھٹو زر داری کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 35 سال اور ستر سال کی عمر میں فرق ہونا چاہیے، وضاحت طلب کر نا ہمارا حق ہے جو رویہ اختیار کیا گیا وہ درست نہیں ، انہوںنے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ہم ان کو موقع دے رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے استعفے موخر کردئیے ہیں، امید ہےوہ فیصلہ پر نظرثانی کریں ۔ انہوںنے کہاکہ قوم پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، ہم اپنے بڑے بڑے فیصلے رمضان المبارک میں کریں گے،ہم چاہتے ہیں ،ہمارے دوست واپس آجائیں،ہم نے بیان بازی میں نہیں الجھنا، یہ آخری بیان ہے،ہمیں پیپلزپارٹی سے توقع نہیں تھی کہ وہ باپ کو باپ بنائیں گے،ان سے توقع ہے میچورٹی کا مظاھرہ کریں،اگر پی ڈی ایم انتخابی اتحاد بنتا ہے تو بننے دیں۔ انہوںنے کہاکہ اگرکسی پارٹی سے بندے نکل جائیں تو بھی پارٹی اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں،پی ڈی ایم اپنے نظریات پر برقرار ہے،ہمارا مقصد الیکشن نہیں تاہم پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے، خون کے آخری قطرے تک عوام کے ساتھ کھڑے ہیں،یوسف رضا گیلانی کا ہمیشہ احترام کیا ہے، میرے خیال میں پیپلزپارٹی نے گیلانی سے زیادتی کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سربراہی اجلاس اور سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں آئندہ کے فیصلے کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ عوام تکلیف میں ہے، ملک انتشار کا شکار ہے،ہم کرسیوں کیسیاست سے ہٹ کر ملک کی بات کریں،پی ڈی ایم کا اپنا اتحاد ہے۔ انہوںنے کہاکہ ٹی ایل پی کیساتھ جو ہوا وہ بہتر نہیں، انتظامی معاملات خوش اسلوبی سے نمٹنے چاہئیں، تحریک لبیک سے معاہدہ پورا کریں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کا پروگرام عوام کی امانت ہے، آگے بڑھ
نے پر کوئی کمزور نہیں ہوگا اور نہ ہی تبدیلی لائیں گے ۔ پاکستان تحریک لبیک کے حوالے سے سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہحمایت یا مخالفت کی بات نہیں ہے ، ملک میں ایک مسئلہ ہے ، آج ملک انتشار کا شکار ہے ، کرسیوں کی سیاست سے ہٹ کر ملک کی بات کریں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پی ڈی ایم اتحاد ہے ، پاکستان میں پارٹیاں ہیں ، کچھ پی ڈی ایم میں ہیں کچھ نہیں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مذہبی جماعت کے ساتھ وحشیانہ رویہ رکھا گیا ہے ، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ، ہم ہر پارٹی کے حقوق کا احترام کریں ۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *