وفاقی حکومت کا بڑی مذہبی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ احتجاج کرنے والوں کے عزائم کیا تھے؟تہلکہ خیز انکشافات

راولپنڈی( آن لائن) وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک مذہبی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔خود ختم نبوتۖ کا مجاہد ہوں ،جس ملک کا وزیر داخلہ ختم نبوت کا مجاہد ہو اس ملک میں کوئی ختم نبوت کا مسئلہ نہیں، راستے بند اور قانون توڑنے والوں کے خلاف قانونی کے مطابق کارروائی کی جائے گی ،ریاست کی رٹ کو ہرصورت یقینی بنایا جائیگا۔ حکومت آج بھی اپنے موقف پر قائم کہ ناموس رسالت بل اسمبلی میں پیش کریں گے لیکن مظاہرین نے غلط راستہ اپنایا،انکا مسودہ پورے یورپ سے پاکستانیوں کو باہر نکلوانے

والا ہے جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔بدھ کے روز وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت نے ایک مذہبی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، پابندی کا فیصلہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے، پنجاب حکومت کی سفارش کے بعدپابندی کی سمری کابینہ کو منظوری کیلئے بھیجی جارہی ہے، راستے بند کرنے اور قانون توڑنے والوں کیخلاف قانون حرکت میں آئے گا۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں خود ختم نبوت کا مجاہد ہوں، (ن) لیگ نے ختم نبوت پرترمیم کی تو میں نے اسمبلی میں آواز اٹھائی، جس ملک میں وزیر داخلہ ختم نبوت کا مجاہد ہو اس ملک میں کوئی ختم نبوت کا مسئلہ نہیں، ہمارے دور میں ناموس رسالت کے خلاف کوئی کام نہیں ہو سکتا، آج بھی اس بات پر قائم ہیںاسمبلی میں ناموس رسالت کا بل پیش کریں گے، لیکن ہم ایسا مسودہ چاہتے ہیں جس سے نبی ۖ کا علم بلند ہو۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے ایمبولینسز روکیں اور راستے بند کیے، مظاہروں میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 340 زخمی ہوئے، مظاہرین ہر صورت فیض آباد اور اسلام آبادآنا چاہتے تھے۔ ہم قرار داد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے، مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے مطالبات منوانے کی کوشش کی، جو معاہدہ کیا اس پر قائم تھے اور قائم ہیں، وہ ایسا مسودہ چاہتے تھے جس میں سارے یورپ لوگ یہاں سے فارغ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن طریقے سے معاملات حل کرنے کے حق میں تھے، ہمیں اپنے طور پرکام نہیں کرنے دیا گیا اور ضد کرتے رہے ، مذاکرات میں گنجائش رکھی جاتی ہے، ریاست کے معاملات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہماری بڑی کوششیں تھیں لیکن وہ ہر صورتفیض آباد آنا چاہتے تھے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے انہیں متعدد بار یقین دہانی کرائی کہ ناموس رسالت کا بل جلد ہی اسمبلی میں لیکر آئیں گے لیکن میں نہ مانوں کی رٹ پر وہ قائم تھے اور وہ اپنے ڈرافٹ سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہ تھے ،وزیر داخلہ نے کہا کہ جو ہمیں معلوم ہےآپ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ وہ اس بار بہت تیاری کر کے آ رہے تھے اور انکے عزائم بہت ہی خطرناک تھے ،اس حوالہ سے بھی ہم نے ایک بار پھر رابطہ کیا کہ ملک کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں وہ دھرنوں سے گریز کریں ،لیکن وہ ایک ایسا ماحول برپا کرنا چاہتے تھے کہ لانگ مارچ،مظاہرہ شروع ہونے سے پہلے وہ سوشل میڈیا پر سارا پلان ترتبیب دیکر سب کو بتا دیتے تھے کہ کراچی میں فلاں ،لاہور میں فلاں اور جہاں جہاں بلاک کرنا ہوتا تھا وہ کارکنان کو روانہ کر دیتے تھے ،اور ا س پر مذاکرات بعد میں کیے جاتے

Leave a Comment