عورتوں کو اعتکاف میں کن باتوں کا دھیان رکھنا ہے






آج کا ہمارا موضوع ہے خواتین کا اعتکاف خواتین رمضان شریف کی بیس تاریخ چھٹنے سے ذرا پہلے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آ ئے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر جم کر بیٹھیں اور صرف حاجت اور کھانا پینا لینے کے لیے اگر کوئی موجود نہ ہو تو اٹھنا درست ہے اور اگر کھا نا پا نی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے ہر وقت اسی جگہ رہے اور وہیں سوئے اور بہتر یہ ہے۔

کہ خاموش نہ بیٹھی رہے بلکہ قرآن یا نفلیں یا تسبیح جو توفیق ہو وہ پڑھے اگر ما ہوا ری آ جا ئے تو اعتکاف چھوڑ دے اس میں اعتکاف درست نہیں ہے اور میاں بیوی والے تعلقات کو بھی چھو ڑ دے اور اعتکاف جتنی اہم عبادت ہے کہ اس میں بندہ اللہ پاک کا مہمان ہو تا ہے اور اپنی گ ن ا ہ وں کی بخشش کر وانے اور اللہ پاک کا بننے کے لیے دھر نا دے کر اللہ کے در کا بھیکاری بن جا تا ہے اتنا ہی اس میں کو تا ہی سے کام لیا جا تا ہے نہ مسائل کی رعایت ہو تی ہے نہ وقت کو قیمتی بنا یا جا تا ہے بلکہ مسجد کی بے۔

حرمتی اور شو ر و غل کرنے کی نہوست سے آدمی اعتکاف سے در کنار مسجد سے فرض نماز سے بھی اپنے کو محروم کر دیتا ہے اس لیے اس کے مسائل کے لیے ضروری ہدایات کچھ یوں ہیں سب سے پہلے نیت ہو نی چاہیے بھلے اعتکاف واجب ہو یا سنت ہو یا نفل ہو اس کی صحت کےلیے نیت کا ہو نا شرط ہے نیت کے بغیر اعتکاف کر نا جا ئز نہیں ہے یعنی واجب اعتکاف نیت کے بغیر کرنے سے اس کے ذمہ سے ادا نہیں ہو گا اب نفلی اعتکاف نیت کے بغیر کرنے سے اس کا ثواب حاصل نہیں ہو گا واجب اور سنت اعتکاف میں جس کسی ایسے کام کے لیے مسجد سے با ہر جا ئے جس کے لیے جا نا اعتکاف والے کے لیے جا ئز ہے۔

تو مسجد میں واپس آ نے پر اس کو نئے سرے سے نیت کر نا ضروری نہیں ہے عورت کا اعتکاف خاوند کی اجازت سے جا ئز ہے اور جب عورت کو اس کے خاوند نے اعتکاف کی اجازت دے دی تو اب اس کو منع کرنے کا اختیار نہیں ہے اور اس کا منع کر نا صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ آمین۔ جیسا کہ ہم سب ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ بھی اسلام میں ہے وہ سب سچ ہے تو ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطا بق ڈھا لنا چاہیے۔










Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *