لاہور احتجاجی مظاہرین نے ڈی ایس پی، 5 کانسٹیبلز اور 2 رینجرز اہلکاروں سمیت کئی عہدیداروں کو یرغمال بنا لیا

لاہور(مانیٹرنگ + این این آئی)لاہور میں کالعدم جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پچاس سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔نجی ٹی وی سماء نیوز کے مطابق احتجاجی مظاہرین کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے صبح آٹھ بجے ہی پولیس نے علاقے کو گھیر لیا تھا، پولیس اور مظاہرین میں تصادم کےدوران گیارہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، سی سی پی او لاہور کے ترجمان رانا عارف کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ایک ڈی ایس پی عمر فاروق بلوچ پربے دردی سے تشدد کیا اور پانچ کانسٹیبلز اور 2رینجرز اہلکاروں سمیت کئی عہدیداروں کو یرغمال

بنالیا۔سی سی پی او کے مطابق اس کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی ٹیموں کی بھاری نفری احتجاجی مقامات پر تعینات کردی گئی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے،بلیک میل نہیں ہوں گے،لاہور میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو اغواء کیا گیا جس پر آپریشن ہوا،ریاست کالعدم مسلح گروہ کے سامنے بلیک میل نہیں ہوئی،عمران خان عاشق رسول ؐ ہیں وزیراعظم نے ہر فورم پر بات کی ہے۔ اپنے بیان میں وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بلیک میل نہیں ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ لاہور میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو اغواء کیا گیا جس پر آپریشن ہوا،ریاست کالعدم مسلح گروہ کے سامنے بلیک میل نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ عمران خان عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں انہوں نے ہر فورم پر بات کی ہے۔ لاہور میں کالعدم جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پچاس سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

Leave a Comment