محمد عباس نے انگلش کاؤنٹی میں شاندار ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرلیا

لندن (این این آئی)قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عباس نے کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے فارم میں واپسی کا ثبوت دیتے ہوئے ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔کاؤنٹی چمپئن میں کھیلے جا رہے میچ میں محمد عباس کی ٹیم ہیمپشائر نے مڈل سیکس کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابتہوا۔ساؤتھ ہیمپٹن میں ہیمپشائر نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ای این ہولینڈ، سیم نارتھ ایسٹ اور کائل ایبٹ کی نصف سنچریوں کی بدولت 319 رنز بنائے، مڈل سیکس کے اسٹیون فن نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔جواب میں مڈل

سیکس کی پہلی اننگز میں محمد عباس ان پر قہر بن کو ٹوٹے پڑے اور بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔فاسٹ باؤلر نے اپنے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں اور پھر اگلے اوور کی پہلی ہی گیند پر وکٹ لے کر ہیٹ کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔کھانے کے وقفے سے قبل دوسرے اینڈ سے باؤلر دیکھتے رہی رہ گئے اور عباس وقفہ ہونے تک تمام وکٹیں لے اڑے اور تب تک مڈل سیکس کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔پاکستانی فاسٹ باؤلر نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ عمدہ باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہیٹ ٹرک کے بعد مزید تین وکٹیں حاصل کی جس کی وجہ سے مڈل سیکس کی ٹیم 31 رنز پر 6 وکٹیں گنوا بیٹھی اور یہ تمام وکٹیں عباس نے حاصل کیں۔ان کی اس بہترین باؤلنگ کے سبب مڈل سیکس کی ٹیم پہلی اننگز میں 79 رنز ہر ڈھیر ہو گئی۔عباس کے تباہ کن اسپیل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پہلی پانچ وکٹیں صرف 13 گیندوں پر حاصل کیں۔محمد عباس نے 11 اوورز میں 11 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کر کے کاؤنٹی کرکٹ کی تاریخ کا تباہ کن اسپیل کیا، بریڈ وہیل نے تین وکٹیں لے کر انکا ساتھ دیا۔ای این ہولینڈ اور سیم نارتھ ایسٹ کی سنچریوں کی بدولت ہیمپشائر نے دوسری اننگز 290 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر ڈکیئر کردی اور مڈل سیکس کو فتح کے لیے 531 رنز کا ہدف دیا۔اب تک مڈل سیکس کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنا چکی ہے اور دوسری اننگز میں بھی عباس دو وکٹیں لے چکے ہیں۔دوسری اننگز میں عباس اب تک 13 اوورز میں 14 رنز دے کر 2 وکٹیں لے چکے ہیں۔میچ میں محمد عباس اب تک 25 رنز کے عوض 8 وکٹیں لے چکے ہیں۔محمد عباس نے رمضان المبارک کا روزہ تو نہیں رکھا لیکن انہوں نے کہا کہ اس شاندار دن کی وجہ یہ مہینہ ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *