یا ودودُ یا رؤفُ یا رحیمُ سے تسخیرِ خلائق کا عمدہ عمل














اگرکسی کو مسخر کرنا ہو اور اپنی کوئی حاجت اس سے پوری کرنی ہو تو اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے اور اس کے بعد تسبیح و تہلیل اور درود شریف پڑھے کر اپنی ضرورت کے لئے دعا مانگے اور پھر ان آیات کو بلا تعداد پڑھتا ہوا اس کے پاس جائے۔ اور وہاں جانے کے بعد بھی بیٹھے بیٹھے پڑھتا رہے۔ جب وہ ہم کلام ہو تو اس وقت پڑھنا چھوڑ دے۔ اور بیچ میں وقفہ ملتا رہے تو اس اثناء میں ان آیات کو پڑھتا ہی رہے انشاء اللہ تعالی مسخر ہوگا اور آپ کا کام پورا کرے گا۔نہایت مجرب ہے۔ آیات یہ ہیں۔ ولما دخلوا من حیث امر ھم ابوھم ماکان یغنی عنھم من اللہ من شی الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضھا ط اذا جا ء ک المنافقون قالو نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ ط و اللہ یشھد ان المنفقین لکذبون بعد نماز عشاء تین تسبیح یا ودود یا رووف یا رحیم اول آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دعا مانگیں۔ انشاء اللہ کامیابی ہوگی مجرب ہے۔ یہ عمل گیارہ یوم ہوگا

۔ نو چندی جمعرات کو شروع کیا جاوے گا جو شخص لوگوں کے قلب میں اپنی محبت عظمت و ہیبت ڈالنا چاہے تو اس دعا کو پرھے یہ دعا حضرت سیدنا ابو الحسن شاذلی قدس سرہ سے منقول ہے۔یا اللہ3 مرتبہ یا رب3 مرتبہ یا رحمن 3 مرتبہ یا رحیم 3 مرتبہ لاتکلنی الی نفسی فی حفظ ما ملکتنی کما انت ا ملک بہ منی و امددنی بدا قائق اسمک الحفیظ الذی حفظت بہ نظام الموجودات و اکسنی بدرع من کفایتک و قلدنی نصرک و حما یتک و توجنی بتاج عزک و کرمک وردانی بردا ء منک ورکبنی مرکب النجاۃ فی المحیا و بعد الممات بحق فجش امتہ دنی بد قائق اسمک القھا ر تد فع بہ عنی من ارادنی سو ء من جمیع الموذیات و تولنی بو لایۃ العز تخضع لی بھا کل جبار عنید و شیطان مرید یا عزیز یا جبار 3 مرتبہ اللھم الق من زینتک و من محبتک دکر امتک و من نعوت ربو بیتک بھا تھویہ القلوب و تذل بہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مجھ پر سابقہ اُمتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اُسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا: جبرئیل! یہ میری اُمت ہے؟ اُس نے کہا: نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ اس نے کہا: یہ آپ کی اُمت ہے؟ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے۔ پس عکاشہ بن محصنص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِسے اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس پر تجھ سے پہل لے گیا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین










Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *