روزہ توڑدینا لیکن یہ بدترین عمل نہ کرنا














اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے گزرے ہیں تا کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔اس آیت میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزے کا بیان ہے۔ صیام (روزہ) کے لفظی معنی رک جانے کے ہیں۔ عربی زبان میں اس کے لیےامساک کا لفظ بھی رک جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

شریعت میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ نہار شرعی کے اندر ہوتا ہے اور شرعی دن سے مراد پوپھٹنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ اس دوران کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہنا اس نیت کے ساتھ کہ میرا روزہ ہے، یہی صوم ہے اور اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رکن ہے۔ حضور نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ علیکم بالصوم فانه لا عدل له تم روزہ کو لازم پکڑو کیونکہ روزے جیسی کوئی اور عبادت نہیں۔فرمایا، اے ایمان والو! یہ روزے صرف تم پر ہی نہیں فرض کیے گئے

بلکہ تم سے پہلے گزرنے والے لوگوں پر بھی اسی طرح فرض تھے البتہ ان روزوں کی مقدار اور تعداد مختلف امتوں کے لیے مختلف رہی ہے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ حضرت آدم ؑ ایام بیض یعنی ہرماہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھتے تھے اور یہ روزے امت محمدیہ کے لیے مستحب کا درجہ رکھتے ہیں حالانکہ حضرت آدم ؑ کے لیے فرض تھے۔ حضرت نوح ؑ کی امت کے لوگ بڑے سخت مزاج اور اکھڑا تھے، ان میں بہیمیت کا عنصر زیادہ مقدار میں پایا جاتا تھا۔ اسے کم کرنے کے لیے اس امت کو سارا سال روزے رکھنے کا حکم تھا۔ حضرت داؤد ؑ دو دن روزہ رکھتے تھے اور تیسرے دن افطار کرتے تھے۔ اس امت آخرالزمان کے لیے اللہ تعالی نے سال بھر میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے۔ ان کے متعلق فرمایا: ایاما معدودات یعنی تین سو ساٹھ دن میں سے انتیس یا تیس دن کے روزے فرض قرار دیے گئے ہیں۔

روزے کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ قانون کی پابندی سکھاتا ہے۔ روزے کے ذریعے انسان ایک مقررہ وقت کے لیے حلال اکل و شرب سے بھی رک جاتا ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ انسان قانون کا پابند ہوجائے۔ جب وہ قانون کی پابندی کے ذریعے حلال چیزوں سے رک سکتا ہے تو وہ حرام چیزوں سے بھی رک جائے گا۔ کھانے پینے اور نفسانی خواہشوں کی تکمیل سے انسان کا نفس مزید پھلتا پھولتا ہے۔ اسے کمزور کرنے کے لیے اسلام نے روزے کا قانون نافذ کیا تا کہ نفس انسانی کو فاقہ کے ذریعے سے کمزور کیا جاسکے۔

لعلکم تتقون کا یہی مطلب ہے کہ انسان میں تقوی جیسی اچھی خصلت پیدا ہوجائے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے پا س ایک بزر گ بڑی دور سے پیدل چل کر ان کیلئے کھانا لایا وہ بہت خوش تھا کہ آپ ان کا کھانا لازمی کھائیں گے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ آپ روزے سے ہیں مگر اس کا دل رکھنے کیلئے آپ نے روزے کو توڑ دیا ساتھ بیٹھے ایک شخص نے پوچھا سرکار آپ کا روزہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ روزہ توڑنے کا تو کفارہ ہے مگر دل توڑنے کا کفارہ کوئی نہیں ہے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری وجہ سے کسی کا د ل نہ ٹوٹے۔










Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *