سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں

روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنا اور سر یا جسم پر تیل لگانے کا کیا حکم ہے نیز کیا مہندی لگانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ آنکھ میں سرمہ ڈالنے ،جسم یا سر پر تیل لگانے اور مہندی لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

حدیث پاک میں ہے: حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کی میری آنکھیں دکھ رہی ہیں کیا میں سرمہ لگا سکتا ہوں

جبکہ میں روزے سے ہوں؟ فرمایا :ہاں۔سنن ابی داؤد میں ہے:حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔ در مختار میں ہے: تیل یا سرمہ لگایایا پچھنے لگوائے اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بہار شریعت میں ہے : بھری سنگی لگوائی یا تیل یاسرمہ لگایاتو روزہ نہ گیا اگرچہ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو ۔

روزے کی حالت میں سرمہ اور کاجل لگانا بلا کراہت جائز ہے، سرمہ اور کاجل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ سرمہ کا اثر اور رنگ حلق اور تھوک میں محسوس کیوں نہ ہو۔بڑا گناہ غیبت ہے یہ سب جانتے ہیں کہ یہ بہت شدید گناہ ہے لیکن ہمارے معاشرے کا کچھ ایسا چلن ہے کہ لوگ اس گناہ سے بہت ہی کم بچنے کی کوشش کرتے ہیں

اچھے اچھوں کی صحبت میں غیبت کا بازار گرم رہتا ہے اور یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ ہم انجانے میں کتنا بڑا گناہ کرتے جارہے ہیں رمضان کے مہینے میں بالخصوص گھریلو صحبتوں میں اس کا رواج بڑھ جاتا ہے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ وقت کاٹنے کے لیے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کرتے ہیں لیکن ان کی باتوں کے دوران کچھ ہی دیر میں کوئی ایک شخصیت ان کی گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے اب جو اس کے عیبوں کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے تو یہ خیال بھی نہیں رہتا کہ ہم کیا کررہے ہیں؟

اور ہم تو روزے سے ہیں اس بارے میں جب تک پوری قوت کے ساتھ ان کی احتیاط کا خیال نہیں رکھا جائے گا کوئ تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی البتہ یہ ضرور ہے کہ کوشش دونوں طرف سے ہونا چاہیے یعنی کہنے والا بھی خیال رکھے یہ کہ اس کی گفتگو غیبت کی حد میں داخل نہ ہونے پائے اور سننے والے بھی دھیان رکھیں کہ بات غیبت کی تعریف میں نہ آجائے

ایسے موقعے پر بے جھجک اوت بے تامل روک دینا ہی مناسب ہے بس اس بات کا خیال رہے کہ آپ کسی برے انداز سے نہ ٹوکیں بلکہ مناسب طریقے اور حکمت کے ساتھ توجہ دلائیں۔حرام اور ناجائز مال کھانا سبھی لوگ گناہ جانتے ہیں

لیکن عملی زندگی میں بہت ہی کم لوگ اپنی روزی کے بارے میں اس کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کی کمائی حلال ہے یا حرام؟ ایسا معلوم ہوتا ہر شخص کے سامنے بس روزی کمانا مقصود ہوتا ہے کس طرح کمائیں؟ اس پر کم ہی لوگ سوچتے ہیں رشوت لینے والے رشوت لیتے رہتے ہیں، لین دین میں بے ایمانی کرنے والے بے ایمانی کرتے رہتے ہیں،

جھوٹ بول کر اور جھوٹے اندراجات کرکے پیسہ بچانے والے پیسہ بچاتے رہتے ہیں، سود کا لین دین ہوتا رہتا ہے، خریدو فروخت کے لیے اسلامی شریعت نے جو پابندیاں لگائی ہیں ان کا خیال کیے بغیر کاروبار ہوتے رہتے ہیں غرضیکہ معاملات کی درستی، دیانت اور ایمانداری کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف بہت ہی کم دھیان دیا جاتا ہے.. حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ اس طرح جو دوسروں کی حق تلفی کی جاتی ہے یہ ایک ناقابلِ معافی گناہ ہے رمضان کا مبارک مہینہ آتا ہے

لیکن کسی کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ اس مہینے میں اگر حلال روزی نہ کمائی اور حرام آمدنی سے پیٹ کی حفاظت نہ کی تو روزے کا اجر ہی کیا ملے گا؟ کیا روزہ اسی کا نام ہے؟ کیا اس طرح ہم اپنے روزے کو ضائع نہیں کررہے؟ کہ اللہ تعالٰی محض آپ کے بھوکا پیاسا رہنے سے اس پر ثواب عطا کرے گا؟

آپ روزے اس لیے تو رکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ سے خوش ہو اس کا اجر و ثواب عطا کرے اور آپ کو اُس ابدی زندگی میں اس کی تیار کی ہوئی جنت میں رہنے کا استحقاق حاصل ہوجائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *