وہ تین صورتیں جب روزہ توڑنا جائز ہے

بے شک اللہ نے روزے والی آیت میں دوعذروں کوبیان فرمایا اللہ نے فرمایا پھر بھی تم میں سے اگر کوئی مریض ہو یا سفر میں ہوتووہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ یہ دو عذر ہے سفر اورمرض۔ اور ان دوعذروں کےذیل میں تفصیلات ہیں جن کاتعلق اس مرض کی نوعیت کے ساتھ ہے جو روزے کے افطارکوجائز قراردیتا ہے۔

اور وہ سفرکے ساتھ ہےجورمضان میں افطارکوجائز قرار دیتاہے۔ اس کی وضاحت تو کافی تفصیلی ہےلیکن ہم مختصر طورپران عذروں کے متعلق بات کرتے ہیں یعنی کہ مرض اورسفر۔اگر ان اعذار کی صورت میں روزہ توڑنے پر کوئی گ ن ا ہ نہیں نمبر ایک کہ روزہ رکھا ایسی بیماری آگئی مثال کےطور پر پیٹ میں اتنا سخت درد ہوا کہ اس کو پتہ ہے کہ اگر میں دوائی نہیں کھاؤ ں گا روزہ نہیں توڑوں گا تو میری جان جانے کا خطرہ ہے کوئی ایسی بیماری ہے جس میں جان جانے کا خدشہ ہو تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے

کہ آپ روزہ توڑ سکتے ہیں نمبر دو ح ا م ل ہ عورت ہے کوئی ایسی بات پیش آئی اس نے یہ محسوس کیا کہ اگر میں روزہ نہیں توڑوں گی تو میری جان کو بھی خدشہ ہے اور بچے کی جان کو بھی خدشہ ہے یعنی کہ میری جان بھی جا سکتی ہے قوی امکان ہے اس کو اور بچے کی جان بھی جاسکتی ہے اس صورت میں اس کو روزہ توڑنے کی اجازت ہے یعنی افطار کرنے کی اجازت ہے نمبر تین کھانا پکانے کی وجہ سے بے حد پیاس لگ جائے اور اتنی بے تابی ہونے لگی

یعنی کہ بعض دفعہ عورتیں کھانا پکاتی ہیں تو پیاس اس حد تک لگتی ہے کہ وہ محسوس کرے کہ میں کھانا نہیں کھاؤ گی تو میری جان ہی نہ نکل جائے تو اس صورت میں اس کو اجازت ہے کہ وہ بھی روزہ توڑ سکتی ہے اگر ان صورتوں کے اندر روزہ توڑ دیا جاتا ہے تو گنہگار نہیں ہوگی اگر جان بوجھ کر عورت ایسا کام کرتی ہے کہ اس کو پیاس لگے اس کو بھوک لگے تو وہ روزہ توڑ دے تو پھر وہ گنہگار ہو گی۔

اگر روزہ توڑ دیا تو اس کی قضا لازم آئے گی کفار ہ نہیں ہوگا ۔انسان کے لئے روزے کی نیت کا دل سے گزارنامثلاً یہ کہناکہ: میں کل روزہ رکھوں گا ضروری نہیں بلکہ اس کاارادہ کرناکافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے اذان صبح سے مغرب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا

جس سے روزہ باطل ہوتاہو اوراس یقین کوحاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ دیراذان صبح سے پہلے اورکچھ دیرمغرب کے بعدبھی ایسے کام کرنے سے پرہیزکرے جن سے روزہ باطل ہوجاتاہے۔انسان ماہ رمضان المبارک کی ہررات کواس سے اگلے دن کے روزے کی نیت کرسکتاہے ۔وہ شخص جس کاروزہ رکھنے کاارادہ ہواس کے لئے ماہ رمضان میں روزے کی نیت کا آخری وقت ہنگام اذان صبح ہے

یعنی احتیاط واجب کی بنا پر ہنگام اذان صبح روز ہ باطل کرنے والی چیزوں سے پرہیز کرنا روزہ کی نیت کے ہمراہ ہو اگرچہ اس کے دل میں یہ بات نہ ہو۔جس شخص نے ایساکوئی کام نہ کیاہوجوروزے کوباطل کرے تووہ جس وقت بھی دن میں مستحب روزے کی نیت کرلے اگرچہ مغرب ہونے میں کم وقت ہی رہ گیاہو،اس کاروزہ صحیح ہے۔

جوشخص ماہ رمضان المبارک کے روزوں اوراسی طرح واجب روزوں میں جن کے دن معین ہیں روزے کی نیت کئے بغیراذان صبح سے پہلے سوجائے اگروہ ظہر سے پہلے بیدارہوجائے اورروزے کی نیت کرے تواس کاروزہ صحیح ہے اور اگروہ ظہر کے بعدبیدارہوتواحتیاط کی بناپربقیہ روزہ کو قربت مطلقہ کی نیت سے ضروری ہے کہ امساک کرےاوراس دن کے روزے کی قضابھی بجالائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *