پی سی بی نے جاوید میانداد کا 47سال پرانےورلڈ ریکارڈ کی یاد تازہ کر دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)آج سے 47 سال قبل نامور پاکستانی بلے باز جاوید میانداد نے ایک ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا جس کی یاد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تازہ کر دی ہے۔پی سی بی کی جانب سے تحریر کیا گیا کہ آج کے دن 47 سال قبل جاوید میانداد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے کم عمر میں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ہم نیوز کے مطابقاس ریکارڈ کو بنانے کے وقت جاوید میانداد کی عمر 17 سال 310 دن تھی اور وہ 629 منٹ وکٹ پر موجود رہے

تھے۔ان کی ٹیم کراچی وائٹس نے اس اننگز کی بدولت نیشنل بینک کی ٹیم کو ہرایا تھا۔دوسری جانب شارجہ کے تاریخی میدان میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈ بیٹسمین جاوید میاں داد کے تاریخی چھکے کو 35 برس مکمل ہوگئے ہیں۔1986 میں لگا چھکا شائقین کرکٹ کے دلوں کو آج بھی گرما دیتا ہے۔ جاوید میانداد کے یادگار چھکے پر پاکستان کی معروف فنکارہ بشریٰ انصاری نے گانا بھی گایا تھا۔جاوید میانداد کو اہم موقع پر سنگل لے کر اسٹرائیک دینے والے کھلاڑی توصیف احمد نے اس گانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بشری انصاری نے سلمیٰ آغا کی کمال نقل کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ یہ گانا بھی میری وجہ شہرت بنا۔یہ میلوڈی انور مقصود، معین اختر اور بشری انصاری نے بنائی تھی۔توصیف احمد نے بتایا کہ اس گانے میں ایک مصرعہ آتا ہے کہ توصیف بیچارے کو درہم آٹھ ملیں گے، اس حوالے سے میں نے ایک دن انور مقصود اور بشری انصاری سے کہا کہ انکم ٹیکس والے میرے پیچھے ہیں میں نے انہیں 8 درہم کا حساب دینا ہے۔ جس پر وہ لوگ خوب ہنسے۔ توصیف احمد نے میچ اور اس سنگل رن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ایک رن نے میری دیگر کارکردگیوں سے زیادہ مجھے شہرت دی۔انہوں نے بتایا کہ جب میں گراونڈ میں اترا تو بہت شور تھا، اس وقت جاوید بھائی امپائر سے بات جیت کر رہے تھے۔ اتنا شور تھا کہ میں اْن کے برابر سے ہوتا ہوا اسٹرائیکر اینڈ کی طرف جارہا تھا مجھے نہیں پتہ جاوید بھائی آواز دے رہے ہیں کیونکہ شور بہت تھا کان میں ایسے آواز آئی جیسے کچھ ہوا میں نے مڑکر دیکھا یار میں آواز دے رہا ہوں تم سن ہی نہیں رہے ہو تو میں نے کہا جاوید بھائی اتنے شور میں آواز نہیں آئی۔انہوں نے بتایا کہ جاوید میانداد نے انہیں کہا کہیں بھی گیند لگے تم بس رنز کے لئے نکل آنا۔انہوںنے کہاکہ چیتن شرما بولنگ کر رہا تھا کہ مجھے لگا کہ وہ بائونسر یا آف سائیڈ پر گیند کرائے گا مگر اس نے مڈل میں گیند کرا دی۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس منظور الہی کا بیٹ تھا جس پر گیند لگی اور تیزی سے بھارت کے تیز ترین فیلڈر محمد اظہر الدین کے پاس چلے گئی۔انہوںنے کہاکہ میں رنز لینے کے لیے بھاگا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میرے پیر کیچڑ میں پھنس گئے ہوں، اظہر نے گیند وکٹ کی جانب پھینکی تاہم وہ نہ لگی اور ہم نے ایک رن مکمل کر لیا۔توصیف احمد نے بتایا کہ میں رن مکمل کرتے ہوئے کافی آگے نکل آیا میں نے مکا بنا کر اشارہ کیا کہ میں پہنچ گیا ہوں۔ میں نے اپنا کام تو پورا کر دیا۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *