جو لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے ان کے لئے روزوں کے بدلے کتنے پیسے غریب کو دینا چاہئے

ماہ رمضان میں جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ ماہ رمضان میں جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ اس شخص سے مخصوص ہے جس نے باطل کیا ہو۔ماہ رمضان کے روزے کو جان بوجھ کر ترک کرنے کے کفارے میں انسان ایک غلام آزاد کرے یا اس دستور کے مطابق جو آئندہ مسائل میں بیان کیا جائے گا دو مہینہ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیر کو سیر کرے یا ان میں سے ہر ایک کو ایک مُد جو تقریباً 750 گرام ہے،

طعام یعنی گیہوں یا جو یا روٹی یا اس طرح کی چیز دے ، چنانچہ اس کےلیے ممکن نہ ہو تو جتنی مقدار فقراکو ممکن ہو ایک مد طعام دے اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو استغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ ان دو صورت یعنی صدقہ اور استغفار میں جب اس کےلیے قدرت حاصل ہو کفارہ دے یا اسے کامل کرے ۔جو شخص ماہ رمضان کے کفارے کا روزہ رکھنا چاہتا ہے ،

لازم ہے کہ ایک مہینہ ایک دن ایک مہینہ کامل اور دوسرے مہینہ سے ایک دن ملاكر پے در پے روزہ رکھے اور اگر بقیہ روزے کو کسی عرفی عذر کی وجہ سے پے در پے انجام نہ دے تو حرج نہیں ہے ، لیکن اگر عرف کی نظر میں عذر نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں مہینے پے در پے روزہ رکھے۔جو شخص دو مہینہ ماہ رمضان کے کفارے کے روزے رکھنا چاہتا ہے لازم ہے

کہ ایسے وقت شروع نہ کرے ایک مہینہ اور ایک دن کے دوران عید قرباں کہ اس دن روزہ حرام ہے یا جیسے ماہ رمضان کہ اس کا روزہ واجب ہے واقع ہو۔جس شخص پر پے در پے روزہ رکھنا لازم ہے اگر اس کے دوران بغیر کسی عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے تو لازم ہے کہ روزوں کو پھر سے شروع کرے۔اگر ان روزوں کے درمیان جنہیں پے در پے رکھنا لازم ہے

کوئی عذر جیسے بیماری حیض یا نفاس یا ایسا سفر پیش آئے جو کرنے پر مجبور ہے تو عذر کے بر طرف ہونے کے بعد روزوں کو دوبارہ شروع کرنا لازم نہیں ہے بلکہ عذر بر طرف ہونے کے بغیر فاصلہ كے بقیہ روزے بجالائے ، لیکن اگر انسان اپنے اختیار سے خود کے لیے عذر فراہم کرے مثلاً وہ عورت جس نے جان بوجھ کر دوا کے ذریعے خود کو حائض کیا ہے لازم ہے کہ دوبارہ روزوں کو پھر سے شروع کرے۔

جس شخص کے لیے ایک دن روزے کے کفارے میں ساٹھ فقیر کو کھانا کھلانا لازم ہے اگر ساٹھ فقیر نہ مل سكیں تو ساٹھ فقیر کے بدلے ساٹھ سے کم فقیر کو زیادہ کھانا دینے پر اکتفا نہیں کر سکتا کہ مجموعی طور پر ساٹھ ہو جائے مثلاً جائز نہیں ہے

کہ تیس افراد میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے اور اس پر اکتفا کرے لیکن فقیر کے اہل و عیال میں سے ہر ایک کے لیے گرچہ نا بالغ ہوں (ایک مد اس فقیر کو دے سکتا ہے اور فقیر بھی اپنے اہل و عیال کی وکالت یا ولایت میں اگر نا بالغ ہوں) لے سکتا ہے اور اگر ساٹھ فقیر کو تلاش نہیں کر سکتا مثلاً اگر صرف تیس افراد ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے سکتا ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر جب بھی آئندہ مزید تیس فقیر مل جائیں انہیں ایک مد طعام دے۔

اگر انسان اپنا روزہ حرام چیز یا حرام عمل سے باطل کرے ، خواہ خود وہ چیز یا عمل اصل میں حرام ہو جیسے ش راب، زن ا، استمنا یا کسی وجہ سے حرام ہو گیا ہو جیسے اس حلال غذا کا کھانا جو انسان کےلیے مکمل طور پر مضر ہو یا عورت سے ح یض میں ہ ب س ت ر ی کرنا، تو ایک کفارہ لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کفارہٴ جمع دے

یعنی ایک غلام آزاد کرے، دو مہینہ روزہ رکھے اور ساٹھ فقیر کو سیر کرے یا ان میں سے ہر ایک کو ایک مد طعام گیہوں، جو ، روٹی یا اس جیسی چیز دے، چنانچہ اگر تینوں کفارہ اس کے لیے ممکن نہ ہو تو جو ممکن ہو اسے انجام دے۔اگر روزے دار خداوند متعال اور پیغمبر اکرم ﷺ کی طرف جان بوجھ کر جھوٹی نسبت دے تو کفارہ نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب ہے

کہ کفارہ دے۔اگر روزے دار ماہ رمضان کے ایک ہی دن میں وہ مفطرات جو کفارے کا سبب ہیں ایک دفعہ سے زیادہ انجام دے خواہ ان میں سے کسی ایک کی چند دفعہ تکرار کرے

یعنی مثلاً چند دفعہ کھائے یا پیے یا چند مرتبہ جم اع یا استمنا کرے اور خواہ چند مختلف مفطر کو انجام دے مثلاً پانی پئے اور پھر جم اع یا استمنا کرے تو ان تمام کے لیے ایک کفارہ کافی ہے اسی طرح اگر انسان ماہ رمضان کے واجب روزے کو جان بوجھ کر نہ رکھے اور روزے کی نیت نہ کرے اور دن میں چند دفعہ مفطر انجام دے گرچہ ج م ا ع یا استمنا ہو پھر بھی ایک کفارہ دینا کافی ہے۔

اگر روزے دار ماہ رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ جو روزہ ہے ہ ب س ت ر ی کرے چنانچہ اگر عورت کو مجبور کیا ہو تو لازم ہے کہ اپنے روزے کا کفارہ اور احتیاط واجب کی بنا پر ایک دوسرا کفارہ عورت کو مجبور کرنے کے لیے دے اور اگر عورت ہ ب س ت ر ی سے راضی تھی تو ہر ایک پر ایک کفارہ واجب ہوگا۔

اگر کوئی عورت اپنے روزے دار شوہر کو ج م ا ع پر مجبور کرے تو مرد کو مجبور کرنے کےلیے اس کا کفارہ دینا لازم نہیں ہے اور اس صورت (مجبور کرنے کی حالت) میں شوہر پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *