فرانسیسی سفیر کو نکالا تو یورپ پاکستان کیلئے بند ہوجائے گا، گورنر سندھ‎

ٹھٹھہ( آن لائن)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے کہ ہمارے نبیﷺ کے شان میں گستاخی نہیں ہونی چاہیے مگر طریقہ کار الگ الگ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رئیس ارسلان بروہی کے گاؤں سدا بہار میں ان کی رہائشگا پر ملاقات کر نے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ٹی ایل پی والے کہتے ہیںکہ ہم فرانس کے سفیر کو پاکستان سے باہر نکال دیں اور ہمارا خدشہ ہے کہ یورپ اپنے دروازے پاکستان کیلئے بند کر دے گا

اور وہ جو مرضی کرتا رہے گا لیکن وہ شان نبی میں جو گستاخی کرتا ہے اس میں اور اضافہ ہو سکتا ہے، ہمارا جو طریقہ کار ہے جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کے سربراہان کو جمع کرکے یورپ اور امریکہ پر پریشر ڈالا جائے کہ جیسے وہ ہولوکاسٹ کے اوپر بات کرنا برا سمجھتے ہیں اور سزا ہوتی ہے، جیسے ہولوکاسٹ پر فریڈم آف پریس نہیں ہوتا ایسے ہی ہمارے نبیﷺ کی ذات کے اوپر بھی فریڈم آف پریس ہمیں ہر گز قبول نہیں ہے یہ بات ہمیں یورپ کو سمجھانا چاہیے کہ کوئی غلط بات ہمارے نبیﷺ کے حوالے سے کرتے ہیں تو ہم مسلمانوں کے بھی دل ٹوٹتے اور جذبات مجروح ہوتے ہیں، اس جذبات سے کھیلنا فریڈم آف پریس نہیں ہو سکتا، ہم اگلے ہفتے ٹی ایل پی کے بھائیوں کے ساتھ تھے اور ہمارے اندر کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ طریقہ کار پر ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرتے، اب ہم ایک نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ہمارے نبیﷺاور تحفظ ناموس رسالت کیلئے ہماری جان بھی جائے تو اس کی پرواہ نہیں اور ہمارے ٹی ایل پی کے بھائیوں سے مذاکرات ہوئے ہیں وہ تمام مسلمان بھائیوں کیلئے ایک خوشخبری ہے۔صحت کارڈ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا آج کا دورا اسی ہی سلسلہ کی ایک کڑی ہے،اب تک سندھ کے 14 اضلاع کو یہ پیکیج دیا گیا ہے باقی جو اضلاع رہتے ہیں ان کے متعلق وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کریں گے اور امید ہے کہ آئندہ فیز ٹو میں وزیر اعظم ان اضلاع کا بھی اعلان کریں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ افسران اپنے فرائض خوش اصلوبی سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *