سحری وافطاری کے وقت دعا کی قبولیت یقینی مگر ایک غلطی ہم کیوں کرتے ہیں

رمضان المبارک ہم پر اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے وعدوں کے ساتھ ایک بار پھر سایہ فگن ہے۔ مسلمان اس مہینے کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہینے کی خاص عبادات میں دعا بھی ہے۔ عموماً افطاری کے وقت ہر گھر میں دعا کی ایک روحانی فضا دیکھنے میں آتی ہے۔

کیوں کہ حدیث مبارکہ کے مطابق افطاری کا سامان سامنے رکھ کر دعا میں مشغول بندے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرشتوں پر فخر فرماتا ہے، اسی طرح یہ وقت دعا کی قبولیت کا بھی خاص وقت ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا مانگیں، کہ اس سے اس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔

دعا کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے متعدد جگہ ہدایت دی ہے، ان آیات مبارکہ سے دعا کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ سورة البقرة ، آیت نمبر 186 میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ۔ ترجمہ : اور (اے پیغمبر)جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ)میں تو (تمہارے) پاس ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں

تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔ قرآن مجید کی سورہ اعراف، آیت نمبر 55،56 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے۔: اُدْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَ خُفْیَةً ِانَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ ِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَ طَمَعاً اِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْب مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(56) ترجمہ: لوگو! اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ (ترمذی، سنن ابن ماجہ)۔ حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: دعا مانگنا بعینہ عبادت کرنا ہے”۔

پھر آپ ﷺ نے بطور دلیل قرآن کریم کی سورہ المؤمن کی آیت نمبر60 کی تلاوت فرمائی: و قال ربّکم ادعونی استجِب لَکم ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ سے دعا مانگا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، النسائی)۔

حضرت انس ؓ کی روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :دعا عبادت کا مغز اور جوہر ہے۔ (جامع ترمذی)۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل (نہ) بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤ کرے اور تمہیں بھرپور روزی دلائے۔

وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دعا کیا کرو۔دعا کے کچھ آداب ہوتے ہیں جیسا کہ (1)کھانے، پینے، پہننے اور کمانے میں حرام سے بچنا۔ (2)۔ دعا مانگنے سے پہلے کوئی نیک کام مثلاً صدقہ دینا، یا نماز پڑھنا وغیرہ کرنا۔ (3)۔ سختیوں اور مصیبتوں کے وقت خاص طور پر اپنے نیک اعمال کے واسطے دعا مانگنا۔ (4)۔ ناپاکی اور نجاست سے پاک ہونا۔(5) باوضو ہونا

۔(6) قبلہ رخ ہونا۔ (7) دعا سے پہلے اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء کرنا، شروع اور آخر میں رسول اللہ ۖ پر درود و سلام بھیجنا۔ (8)۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر اور اوپر اٹھا کر دعا مانگنا۔(9) عاجزی و انکساری اختیار کرنا۔ (9)۔ گڑگڑانا۔ (10)۔ ابنیائے کرام اور اللہ کے نیک بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *