اقوام متحدہ میں  ایران کو بطور رکن منتخب کرلیاگیا

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ میں خواتین کی صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی نگران کونسل میں ایران کی شمولیت پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یو این مانیٹری کونسل پر کڑی تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اقوام متحدہ کے اس اقدام کو ایران میں خواتین کے لیے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل نے رائے شماری کے دوان 45 رکن ممالک میں ایران کا انتخاب کیا گیا۔ اس بین الاقوامی ادارے کا مشن

صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے متعدد ممبر ممالک جنہوں نے طویل عرصے سے باضابطہ طور پر ایران میں انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق کی پامالی پر تنقید کی ہے نے اس بین الاقوامی تنظیم میں تہران کی رکنیت میں اصلاح کے لیے چار سال کے لیے ایران کو منتخب کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کونسل پر ایرانی کارکنوں میں سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ عالمی ادارہ ایران میں خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہا ہے۔ایران کی رکنیت کے خلاف احتجاج صرف ایرانی کارکنوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے آبزر ویٹری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہلیل نیویر نے اپنے ٹویٹ میں اس انتخاب کا مذاق اڑایا اور کہا کہ خواتین کے دفاع کرنے والے اس اعلی ادارہ میں ایرانی حکومت کی رکنیت انسانی حقوق کا کھلواڑ ہے۔یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کو فائر بریگیڈ کا سربراہ مقرر کرنے کے مترادف ہے۔ نیویر کا کہنا تھا کہ یہ مضحکہ خیز انتخاب اخلاقی طور پر قابل مذمت ہے اور خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔اگرچہ یہ ووٹ خفیہ تھا۔ اقوام متحدہ کے مانیٹر نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی)کے پندرہ یورپی اور مغربی ممبران میں سے چار نے ایران کی رکنیت کے حق میں ووٹ دیا۔اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق کونسل کے رکن ممالک میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، نیدر لینڈ، ناروے، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، لکسمبرگ، فن لینڈ، لٹویا، کینیڈا اور امریکا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر کونسل کے 54 ممالک میں ایران کے حق میں 45 ممالک نے ایران کے حق میں ووٹ دیا۔ ایران کے حق میں ووٹ دینے والے ملکوں میں چار مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *