نماز تراویح کتنی پڑھنی چاہئے؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اکابرینِ امت سے تراویح کا بیس رکعت پڑھنا منقول ہے، سننِ کبریٰ للبیہقی، مصنف بن ابی شیبہ اور معجم اوسط للطبرانی کی روایات میں رسول اللہ ﷺ سے بھی رمضان المبارک میں بیس رکعات اور اس کے بعد تین رکعات وتر کا ثبوت ہے، اور اسی پر اجماع ہے لہذا تراویح بیس رکعت ہی پڑھنی چاہیے۔
بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ

امامت بھی فرمائی تھی، لیکن صحابہ کے شوق اور جذبہ کو دیکھتے ہوئے تیسرے یا چوتھے روز امامت کے لیے تشریف نہ لائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے مبارک کے باہر انتظار کرتے رہے اور اس خیال سے کہ نبی اکرم صلی علیہ وسلم سو نہ گئے ہوں بعض صحابہ کھنکارنے لگے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردی جائیں؛ اگر فرض کردی گئیں تو تم ادا نہیں کرسکو گے؛ لہذا اے لوگو! اپنے گھروں میں ادا کرو۔ جب کہ آپ علیہ السلام کا ماہِ رمضان میں بذاتِ خود جماعت کے بغیر بیس رکعت تراویح اور وتر ادا کرنے کا معمول تھا، بیس رکعت تراویح ادا کرنا صحابہ کرام کا بھی معمول تھا یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باجماعت بیس رکعت تراویح کا اہتمام مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کروایا تو ان پر نہ کسی نے نکیر فرمائی اور نہ ہی کسی نے مخالفت کی، بلکہ تمام صحابہ کرام نے باجماعت تراویح کے اہتمام پر اجماع کیا، اور اس وقت سے لے کر آج تک تمام فقہاءِ کرام اور امتِ مسلمہ کا اجماع ہے اور تمام فقہاء کے نزدیک بھی بیس رکعت تراویح سنتِ مؤکدہ ہے ، اور بلاعذر اس کاتارک گناہ گار ہے، اور بیس رکعت تراویح کا انکارنصوصِ شرعیہ سے
ناواقفیت، جمہور فقہا ءِ کرم کی مخالفت اور گم راہی ہے۔ ضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں تراویح بیس رکعت کے ساتھ باجماعت جاری فرمایا، موطا امام مالک میں ہے: کان الناس یقومون في زمان عمر بن الخطاب -رضي اللہ عنہ- في رمضان بثلاث وعشرین رکعة کہ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک میں ۲۳/ رکعتیں پڑھتے تھے (بیس تراویح کی اور تین رکعات وتر کی) اور یہ بات بھی محقق ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے اور ان کی وفات کے بعد
تک تمام صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر عمل رہا، ان کا اختلاف نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یقیناً ان حضرات کی نگاہوں میں اس کے مآخذ اور دلائل رہے ہوں گے کیونکہ صحابہ کرام کسی منکر اور بدعت بات پر جمع ہونے والے نہیں تھے، بلکہ وہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وافعال دیکھ کر اس کی نقل کرنے والے تھے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں
أما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکان یتوضأ فیری الصحابة وضوء ہ فیأخذون بہ من غیر أن یبین أن ہذا رکن وذلک أدب وکان یصلي فیرون صلاتہ فیصلون کما رأوہ یصلي وحج فرمق الناس حجہ ففعلوا کما فعلوہ رہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد مبارک تو آپ وضو فرماتے تھے اور صحابہ آپ کے وضو کو دیکھ کر اس پر عمل کرتے تھے، بغیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح کے کہ یہ رکن ہے، وہ مستحب ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے پس صحابہٴ کرام جس طرح آپ کو
نماز پڑھتا ہوا دیکھتے تھے خود بھی نماز پڑھتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، پس لوگوں نے بھی دیکھ کر ویسے ہی افعال حج ادا کیے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیے (حجة اللہ البالغہ) مدینہ کے حضرات چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو دیکھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے تھے اسی بنیاد پر امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک تعامل اہل مدینہ بھی دلیل شرعی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے اب تک شرقاً غرباً بشمول حرمین شریفین کے امت کا اس پر عمل ہے، اب مزید دلائل کی تلاش لغو اور ضائع کام میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے مترادف ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *