حضور ﷺ کا پسند یدہ شربت ایک گلاس پیلو۔ سخت گرمی میں بھی روزہ دار کو پیاس نہ لگے۔ روزہ ایسے گزرے جیسے دسمبر کا مہینہ ۔














اگر آپ افطاری کے بعد اپنا پیٹ سے پانی سے بھر لیتے ہیں تو اس پانی کے گلاس سے آپ کا پیٹ سخت ہو جا ئے گا جس کی وجہ سے آپ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے آپ کو افطاری کے بعد بہت ہی خوش مندی کے ساتھ چند گھونٹ پانی کے پینے چاہییں اور پھر ضرورت پڑنے پر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہیے چاہے

یہ روایت قائم ہے کہ رمضان بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے مگر روایت کے بر خلاف اس با بر کت مہینے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ لوگ اس فکر کے بھی شکار ہو جا تے ہیں اور ان کے دماغوں میں یہ سوال بار بار اُٹھ رہا ہو تا ہے کہ تیس روزے کی سحر و افطار کس طریقے سے کی جا ئے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل تگ و دو میں رہتے ہیں اور پھر بد پر ہیزی کا ایسا دور شروع ہو تا ہے۔

جو یکم رمضان سے شروع ہو تا ہےا ور اس کا اہتمام آخری دن تک جا ری رہتا ہے جس کا نتیجہ بہت سی بیماریوں کی صورت میں آپ کے سامنے آ تا ہےا س سلسلے سے متعلق کچھ طریقہ کار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے جا رہے ہیں جن سے آپ اپنے آپ کو بہت سے لاحق بیماریوں سے بھی بچا سکتے ہیں لیکن تفصیلات میں جانے سے قبل ایک یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا

کیونکہ یہ جو باتیں میں بتانے لگا ہوں ان سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔ آج آپ جانیں گے کہ نبی اکرم ﷺ روزہ کس طرح افطار فرما تے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اوقات کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو پانی سے افطار فرما لیتے تھے۔ حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے کرے

کیونکہ اس میں برکت ہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے کیونکہ پانی پاک ہوتا ہے۔ہمارے ہاں اکثر و بیشتر افطاری کے وقت عجیب مضحکہ خیز صورت نظر آتی ہے۔ یہ ہماری مجلسی زندگی کا خاصہ ہے‘ جو الا ماشاء اللہ افراتفری‘ بدنظمی اور ذہنی انتشار کی آئینہ دار ہے۔ اس کی ایک جھلک افطاری کے وقت بھی نظر آتی ہے۔ ادھر مغرب کی اذان بلند ہوئی‘ اس کے ساتھ ہی ایک ہنگامہ شروع ہو گیا اور افطاری کے لئے بھاگم دوڑ مچ گئی۔ کوئی جلدی سے کھانے کی طرف لپک رہا ہے اور کلی کر کے مسجد کی طرف بھاگ رہا ہے۔

موذن کے اذان سے فارغ ہونے کے فوراً بعد مغرب کی نماز کھڑی ہو گئی۔ اس افراتفری میں افطاری کرنے والوں میں سے کسی کو دوسری اور کسی کو آخری رکعت میں جماعت ملی۔ بدنظمی اور عدم توازن پر مبنی یہ صورت حال ہماری کج فہمی کی پیداوار ہے‘ ہم اپنی لاعلمی کی بنا پر نماز مغرب میں غیر ضروری عجلت کو روا گردانتے ہیں‘

حالانکہ نماز کا وقت اتنا تنگ بھی نہیں‘ جتنا ہم سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دس پندرہ منٹ افطاری کے لئے دیں اور پھر اطمینان اور یکسوئی سے نماز مغرب باجماعت ادا کریں۔










Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *