رمضان میں زیادہ اجر چاہئے تو یہ عمل کثرت سے کریں

رمضان شریف کا مہینہ ہے ، میں اور آپ الحمد اللہ روزے سے ہیں ۔ بعض دفعہ انسان بہت زیادہ فائدے والے جگہ پر پہنچ جاتا ہے ۔ لیکن اس کو پتہ نہیں ہوتا کہ کتنے فائدے والے جگہ ہے ۔ اس طرح بعض دفعہ انسان ایک ایسے دور میں داخل ہوجاتاہے جس میں اس کوبہت فائدہ ملنے والا ہوتا ہے، لیکن اس کو پتہ نہیں ہوتا ۔ تو وقت پر ایک بات کا معلوم ہونا اور اس سے فائدہ اٹھانا یہ خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے ۔

مثلاً بعض لوگ کسی بڑے اللہ والے کے قریب رہ رہے ہوتے ہیں ، لیکن ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کون ہے ۔ لیکن جب وہ اٹھ جاتا ہے اور دوسرے لوگ ان کے بارے میں لکھتے ہیں تو پھر یہ افسوس کرتے ہیں کہ کاش ہمیں پہلے یہ معلوم ہوتا تو ہم بھی ان سے کچھ فائدہ اٹھا لیتے ۔ دور کی بات نہیں ہمارے مولانا یوسف بنوری ؒ جب فوت ہوئے تو ان کے علاقے کے لوگوں نے ایسی ہی بات کی ۔ کیونکہ قریبی لوگوں کو ویسے بھی اندازہ نہیں ہوتا ۔

جو نعمت قریب کی ہوتی ہے اس کا پتہ نہیں چلتا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے انتظار میں رہتے تھےالحمد اللہ ہم لوگ رمضان شریف کا مہینہ پا چکے ہیں ، اللہ کا شکر ہے بہت ہی شکر کرنا چاہیے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے پانے کی آرزو آپ ﷺ دو دو مہینے پہلے کرتے تھے ۔

رجب کے مہینے میں آپ ﷺ فرماتےالھم بارک لنا فی الرجب والشعبان و بلغنا رمضان اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کا حد و حساب ہی نہیں ہے ۔ اس جہاں میں عمل ہے ، ثمرات کا انکشاف نہیں ہے ۔لوگ کہتے ہوتے ہیں کہ ہم فارغ نہیں ، لہذا ناقدری ہوتی جاتی ہے ۔ لیکن جب وہاں ثمرات منکشف ہونگے تو پھر عمل کا وقت نہیں ہوگا ۔ وقت گزر چکا ہوگا ۔

یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو جنتی ہونگے وہ بھی اس بات پر افسوس کررہے ہونگے کہ جو وقت ہم نے ضائع کیا اور اس میں ہم نے ذکر نہیں کیا تو افسوس کررہے ہونگے کہ کاش اس میں بھی ہم ذکر کرلیتے آج ہمیں اس کا بھی فائدہ ہوتا ۔ کیونکہ انہوں نے ذکر کا اجر دیکھا ہوگا ۔ ذکر کے ثمرات کے بارے میں ان کو معلوم ہوچکا ہوگا ۔

اس طرح تکالیف کے بارے میں بھی جب اجر معلوم ہوگا کہ جن کو کوئی تکلیف ملی ہوگی اور اس پر اس کو اس کا عظیم ملا ہوگا، تو جن لوگوں پر تکلیفیں نہیں گزری ہوں گی اور و ہ کہیں گے کاش ہمارے جلدکینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی لیکن آج ہمیں اس کا آج اس کا اجر ملتا ۔ لیکن افسوس یہ جاننے کے بعد پھر عمل کا وقت نہیں ہوگا ۔

اب اگر کوئی خیر خواہ کسی کو عین وقت پر کان میں کہہ دے کہ یہ بڑے فائدے کی چیز ہے اس کو لے لو ۔ اور وہ چیز وہ لے لیتا ہے اوربعد میں اس کو پتہ چل جائے کہ واقعی وہ بڑے فائدے کی چیز تھی تو وہ اس سے بہت خوش ہوگا اور کہے گا کہ دیکھیں اس نے میرے ساتھ بہت اچھا کیا ۔

تو ایسا خیر خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پاس آچکا ہے ۔ بلکہ اس سے پہلے ایسے خیر خواہوں کا ایک سلسلہ جاری تھا ، انبیائے کرام کا سلسلہ ، جو اپنی اپنی امتوں کوایسی خیر خواہی کی باتیں بتاتے تھے ۔ کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو ۔ تو جب رمضان شریف کا مہینہ آرہا تھا تو آپ ﷺِ نے اپنی امت کے ساتھ یہ خیر خواہی فرمائی کہ شعبان کے آخر میں ایک چھوٹا سا خطبہ ارشاد فرمایا ۔

اس میں آپ ﷺِ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہو م یہ ہے کہ تمہارے اوپر ایک بہت بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ۔کہ اس میں ایک رات ایسی ہے جو کہ ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض قرار دیئے اور اس رات کا قیام (تراویح) سنت قرار دیا۔ اس مہینے کے اندر جو لوگ کوئی نفلی کام کریں گے وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان کے اندر وہ فرض کام کررہے ہوں ۔

اور اس مہینے میں جو فرض ادا کررہے ہونگے وہ ایسے ہونگے جیسے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کررہے ہوں ۔ اور یہ مہینہ صبر کاہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔یہ مہینہ غم خواری کا ہے اور اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔جس نے اس میں کسی راوزہ دار کو افطار کرایا اس کو گناہوں سے بخشش اور جہنم سے نجات حاصل ہوتی ہے اوراس کو اس روزہ دار کے برابر اجر ملے گا ۔

اور اس روزہ دار کے اجر سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے بہت سے آدمیوں کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ کسی کو روزہ افطار کرائے ۔ ان کا خیال تھا کہ روزہ دار کوپیٹ بھر کر کھانا کھلانا ہوگا ۔ یہ تو ہر ایک کے بس میں نہیں تھا ۔ کیونکہ صحابہ کرام میں اکثر غریب ہوتے تھے ۔

تو آپ ﷺِ نے فرمایا کہ نہیں اگر ایک گھونٹ دودھ سے بھی کوئی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائیگا یا ایک کھجور سے یا تھوڑے سے پانی سے تو اس پربھی یہ اجر ملے گا ، اور جو کسی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اس کوحشر کے دن حوض کوثر سے پانی پلایا جائے گا جس کے بعد جنت میں داخلے تک اس کو پیاس نہیں لگے گی ۔

اور یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کی ابتداء رحمت ہے ۔ درمیان میں مغفرت ہے ۔ اور آخر میں جہنم سے خلاصی ہے ۔ اور جس نے اس میں اپنی باندی یا غلام کا بوجھ ہلکا کیا اس کو اللہ تعالیٰ بخش دے گا اور دوزخ کی آ گ سے آزاد کرے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *