بری موت سے بچنے کے لیے کیا کیا جائے؟














موت برحق ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا چاہے آپ سات پردوں کے پیچھے چھپ جائیں یا کہیں بھی چلیں جائیں لیکن موت آپ تک پہنچ کر ہی رہتی ہے-اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ وہ زندگی اور موت دے سکتا ہے تو وہ سراسر جھوٹ کہتا ہے گناہ کرتا ہے کیونکہ یہ اختیار صرف اللہ تعالی کے پاس ہے-اور موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ بھی کیا جائے گا- موت ایک ایسی چیز ہے جس کے ذکر سے ہر کوئی بھاگتا ہے-موت کی حقیقت سے ہر کوئی نظریں چراتا ہے-لیکن اس سے نظریں چرانے سے ہم موت سے بچ نہیں جائیں گے-ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہم اگلا قدم اٹھا بھی سکیں گے نہیں-اللہ تعالی انسانوں کو مختلف موت دیتا ہے کسی کو آرام والی موت تو کسی کو درد ناک موت دیتا ہے-ہم اکثر لوگوں کو کہتے سنتے ہیں کہ وہ تو بکل ٹھیک تھا پتا نہیں اچانک سے کیا ہوگیا-اللہ تعالی لوگوں کو تکلیف کی موت سے بچاتے ہیں-اور کچھ لوگوں کو بہت خطرناک بیماری کا سامنا ہوتا ہے وہ بہت تکلیف میں رہتے ہیں-اور پھر موت ان پر طاری ہوتی ہے-کسی کا بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے-

اسی لیے اس طرح کی تکلیف دہ موت سے بچنے کے لیے ہمیں یہ دعا باقاعدگی سے پڑھنا چاہیے- رَبَّنَاٌ أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ “اے ہمارے رب!ہم پر صبر انڈیل دے اور اس حال میں موت دے کہ ہم مسلمان ہوں” اس دعا کو باقاعدگی سے پڑھنے سے ہم درد ناک موت سے بچ جائیں گے-موت تو ہے ہی برحق اس لیے ہمیں چاہیں کہ ہم اپنی آنی والی موت سے اللہ سے دعا کرتے رہیں-قبر ہمیں دن میں ستر دفعہ یاد کرتی ہے لیکن ہم قبر کو ایک دفعہ بھی یاد نہیں کرتے بلکہ ہم اس دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے ہیں-ہم اس حقیقت کو بھلائے بیٹھے ہیں کہ ہم اس کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے










Leave a Comment